المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأدب— آدابِ معاشرت اور حسنِ اخلاق کا بیان۔
بَابُ الإحسان إِلَى الرقيق باب: غلاموں کے ساتھ حسنِ سلوک اور بھلائی کرنے کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، حَدَّثَنَا مُوسَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ زَحْرٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : اللهَ اللهَ فِي مِلْكِ أَيْمَانِكُمْ ، أَشْبِعُوا بُطُونَهُمْ ، وَاكْسُوا ظُهُورَهُمْ ، وَأَلِينُوا لَهُمُ الْقَوْلَ .سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”«اللهَ اللهَ فِي مِلْكِ أَيْمَانِكُمْ ، أَشْبِعُوا بُطُونَهُمْ ، وَاكْسُوا ظُهُورَهُمْ ، وَأَلِينُوا لَهُمُ الْقَوْلَ» اپنے زیرِ دستوں (غلاموں اور خادموں) کے معاملے میں اللہ سے ڈرو، اللہ سے ڈرو؛ ان کے پیٹ بھرو (یعنی انہیں شکم سیر ہو کر کھانا کھلاؤ)، ان کے جسموں کو لباس پہناؤ اور ان کے ساتھ گفتگو میں نرمی اختیار کرو۔“
اسے امام ابو یعلیٰ نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، اس کی سند میں علی بن یزید املہانی اور عبید اللہ بن زحر راویوں کی وجہ سے ضعف پایا جاتا ہے، تاہم حدیث کے دیگر شواہد کتبِ سنن میں موجود ہیں۔