المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأدب— آدابِ معاشرت اور حسنِ اخلاق کا بیان۔
بَابُ الإحسان إِلَى الرقيق باب: غلاموں کے ساتھ حسنِ سلوک اور بھلائی کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2833
حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ هِلَالٍ ، حَدَّثَنَا صَاحِبٌ لَنَا ثِقَةٌ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا زَالَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ يُوصِينِي بِالْمَمْلُوكِ ، حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ سَيَجْعَلُ لَهُ حَدًّا إِذَا بَلَغُوا عَتَقُوا .ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جبرائیل علیہ السلام مجھے غلاموں (کے حقوق اور ان سے حسنِ سلوک) کے بارے میں مسلسل اس قدر تاکید کرتے رہے کہ مجھے یہ گمان ہونے لگا کہ شاید وہ ان کے لیے کوئی ایسی حتمی حد یا میعاد مقرر فرما دیں گے کہ جب وہ اس (مرحلے یا عمر) تک پہنچیں گے تو وہ (ازخود) آزاد ہو جائیں گے۔“
مسند احمد: 2833، علامہ شعیب الارنؤوط نے اسے شواہد کی بنا پر صحیح لغیرہ قرار دیا ہے کیونکہ اس کی سند میں ایک راوی مبہم ہے۔