المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأدب— آدابِ معاشرت اور حسنِ اخلاق کا بیان۔
بَابُ الإحسان إِلَى الرقيق باب: غلاموں کے ساتھ حسنِ سلوک اور بھلائی کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2830
قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ الْغَسَّانِيِّ ، عَنْ أَبِي الْمُجَاشِعِ الْأَزْدِيِّ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : مَنِ ابْتَاعَ شَيْئًا مِنَ الْخَدَمِ فَلَمْ يُوَافِقْ شِيمَتُهُ شِيمَتَهُ ، فَلْيَبِعْ ، وَلْيَشْتَرِ ، حَتَّى يُوَافِقَ شِيمَتُهُمْ شِيمَتَهُ ، فَإِنَّ النَّاسَ شِيَمٌ ، وَلَا تُعَذِّبُوا عَبْدَ اللهِ .
2830 \ 2 - أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ وَلَمْ يَرْفَعْهُ .ترجمہ
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص خادموں میں سے کسی خادم کو خریدے، پھر اس خادم کی عادات و خصلتیں اس مالک کی طبیعت و مزاج کے موافق نہ ہوں، تو وہ اسے فروخت کر دے اور کوئی دوسرا خرید لے، یہاں تک کہ اس کی خصلتیں اس کے مزاج کے مطابق ہو جائیں؛ کیونکہ لوگوں کی طبیعتیں اور فطرتیں مختلف ہوا کرتی ہیں، اور (مزاج کی عدم مطابقت کی بنا پر) تم اللہ کے بندے کو تکلیف و اذیت نہ دو۔“
عیسیٰ بن یونس نے ابوبکر بن ابی مریم سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت بیان کی ہے، تاہم انہوں نے اسے مرفوعاً بیان نہیں کیا۔