المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأدب— آدابِ معاشرت اور حسنِ اخلاق کا بیان۔
بَابُ سعة رحمة اللَّهُ تَعَالَى وَالتَّرْغِيبِ فِي الرحمة باب: اللہ تعالیٰ کی رحمت کی وسعت اور رحم و کرم کی ترغیب کا بیان۔
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِي الْأَزْهَرِ قَالَ : إِنَّ رَجُلًا مَرَّ بِفَرْخَيْ طَيْرٍ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُوهُمَا يَحُومُ عَلَيْهِمَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَخَذْتَ هَذَيْنِ الْفَرْخَيْنِ ، وَأَبُوهُمَا يَحُومُ عَلَيْهِمَا ، أَلَا تَرَكْتَ لَهُ أَحَدَهُمَا ، فَتَقَرَّ بِهِ عَيْنُهُ .ابو الازہر سے روایت ہے کہ ایک شخص پرندے کے دو بچوں کے ساتھ نبی کریم ﷺ کے پاس سے گزرا جبکہ ان کا باپ (نر پرندہ) ان پر منڈلا رہا تھا، تو رسول اللہ ﷺ نے (اس کی بے حسی پر) ارشاد فرمایا: ”تم نے ان دونوں بچوں کو پکڑ لیا ہے حالانکہ ان کا باپ ان کے گرد منڈلا رہا ہے، تم نے ان میں سے ایک بچہ اس کے لیے کیوں نہ چھوڑ دیا تاکہ «فَتَقَرَّ بِهِ عَيْنُهُ» ”اس کے ذریعے اس کی آنکھیں ٹھنڈی رہتیں (اور اسے قلبی سکون ملتا)۔“ “
امام حارث بن ابی اسامہ نے اسے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، اس کی سند میں ابن لہیعہ راوی ہے جو اپنے حافظے کی کمزوری کی وجہ سے ضعیف ہے، تاہم پرندوں پر رحم کرنے اور انہیں اذیت نہ دینے کے حوالے سے دیگر صحیح احادیث سے اس کے مفہوم کی تائید ہوتی ہے۔