المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأدب— آدابِ معاشرت اور حسنِ اخلاق کا بیان۔
بَابُ سعة رحمة اللَّهُ تَعَالَى وَالتَّرْغِيبِ فِي الرحمة باب: اللہ تعالیٰ کی رحمت کی وسعت اور رحم و کرم کی ترغیب کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبَانَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ سِنَانٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، لَا يَضَعُ اللهُ رَحْمَتَهُ إِلَّا عَلَى رَحِيمٍ قَالُوا : يَا رَسُولَ اللهِ ، كُلُّنَا يَرْحَمُ ، قَالَ : لَيْسَ بِرَحْمَةِ أَحَدِكُمْ خَاصَّةً ، حَتَّى يَرْحَمَ النَّاسَ كَافَّةً .سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے دستِ قدرت میں میری جان ہے! اللہ تعالیٰ اپنی رحمت صرف اسی شخص پر نازل فرماتا ہے جو رحم دل ہو“، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہم میں سے ہر شخص رحم دلی کا مظاہرہ کرتا ہے، آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اس سے مراد تمہاری وہ مخصوص رحم دلی نہیں ہے (جو تم اپنے خاص حلقے یا اپنوں کے ساتھ کرتے ہو)، جب تک کہ تم تمام انسانوں کے لیے عام طور پر رحم دل نہ بن جاؤ“۔
تخریج: مسند ابویعلیٰ: 2827، اس کی سند میں محمد بن اسحاق موجود ہیں جو کہ صدوق اور مدلس ہیں، تاہم دیگر شواہد کی بنا پر یہ روایت حسن درجے کی ہے۔