المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأدب— آدابِ معاشرت اور حسنِ اخلاق کا بیان۔
بَابُ سعة رحمة اللَّهُ تَعَالَى وَالتَّرْغِيبِ فِي الرحمة باب: اللہ تعالیٰ کی رحمت کی وسعت اور رحم و کرم کی ترغیب کا بیان۔
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ وَاقِدٍ ، حَدَّثَنَا حَسَّانُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْكَرْمَانِيُّ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَسْرُوقٍ ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ ، فَأَصَابَ بَعْضُهُمْ فَرْخَ عُصْفُورٍ ، فَجَعَلَ الْعُصْفُورُ يَقَعُ عَلَى رِحَالِهِمْ ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُرَدَّ عَلَيْهِ فَرْخُهُ ، ثُمَّ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَلَّهُ أَرْحَمُ بِعَبْدِهِ مِنْ هَذَا الْعُصْفُورِ بِفَرْخِهِ .نبی کریم ﷺ کے ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم ایک سفر میں نبی کریم ﷺ کے ہمراہ تھے، تو ان میں سے بعض لوگوں نے چڑیا کا ایک بچہ پکڑ لیا، جس پر وہ چڑیا (جذباتِ محبت سے بے قرار ہو کر) ان کے کجاووں پر گرنے لگی، تو رسول اللہ ﷺ نے حکم ارشاد فرمایا کہ اس کا بچہ اسے واپس لوٹا دیا جائے، پھر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: «لَلَّهُ أَرْحَمُ بِعَبْدِهِ مِنْ هَذَا الْعُصْفُورِ بِفَرْخِهِ» ”یقیناً اللہ تعالیٰ اپنے بندے پر اس چڑیا کے اپنے بچے پر رحم کرنے سے بھی کہیں زیادہ مہربان ہے“۔
اسے امام حارث بن ابی اسامہ نے اپنی مسند (بغیۃ الباحث: 1045) میں روایت کیا ہے، اس کی اصل صحیح مسلم (2754) میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے ایک قیدی عورت کے واقعے کے ساتھ مروی ہے، جبکہ چڑیا کا یہ واقعہ سنن ابی داؤد (2675) اور مسند احمد (4400) میں بھی موجود ہے۔