المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأدب— آدابِ معاشرت اور حسنِ اخلاق کا بیان۔
بَابُ سعة رحمة اللَّهُ تَعَالَى وَالتَّرْغِيبِ فِي الرحمة باب: اللہ تعالیٰ کی رحمت کی وسعت اور رحم و کرم کی ترغیب کا بیان۔
قَالَ عَبْدٌ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ بَكْرٍ السَّهْمِيُّ ، حَدَّثَنَا فَائِدٌ أَبُو الْوَرْقَاءِ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى الْأَسْلَمِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : خَرَجْتُ ، إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ ، وَعُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قُعُودٌ ، فَإِذَا غُلَامٌ صَغِيرٌ يَبْكِي ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : ضُمَّ الصَّبِيَّ إِلَيْكَ ، فَإِنَّهُ ضَالٌّ فَضَمَّهُ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَيْهِ ، فَبَيْنَمَا نَحْنُ قُعُودٌ إِذَا امْرَأَةٌ تُوَلْوِلُ ، أَظُنُّهُ ، وَتَقُولُ : وَا بُنَيَّاهُ ، وَتَبْكِي ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : نَادُوا الْمَرْأَةَ ، فَإِنَّهَا أُمُّ الصَّبِيِّ ، وَهِيَ كَاشِفَةٌ عَنْ رَأْسِهَا ، لَيْسَ عَلَى رَأْسِهَا خِمَارٌ ، جَزَعًا عَلَى ابْنِهَا ، فَجَاءَتْ حَتَّى قَبَضَتِ الصَّبِيَّ مِنْ حَجْرِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَهِيَ تَبْكِي ، وَالصَّبِيُّ فِي حَجْرِهَا ، فَالْتَفَتَتْ ، فَلَمَّا رَأَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ : وَا خِزْيَاهُ ، أَلَا أَرَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ ذَلِكَ : أَتَرَوْنَ هَذِهِ رَحِيمَةً بِوَلَدِهَا ؟ فَقَالَ أَصْحَابُهُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ : بَلَى يَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَفَى بِهَذِهِ رَحْمَةً ، فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، لَلَّهُ تَعَالَى أَرْحَمُ بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ هَذِهِ بِوَلَدِهَا .سیدنا عبداللہ بن ابی اوفی الاسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، اس وقت سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما آپ ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، اچانک ایک چھوٹا بچہ روتا ہوا دکھائی دیا تو نبی کریم ﷺ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”اس بچے کو اپنے ساتھ چمٹا لو کیونکہ یہ راستہ بھٹک گیا ہے۔“ چنانچہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسے اپنے سینے سے لگا لیا۔ ہم ابھی بیٹھے ہی تھے کہ ایک عورت بین کرتی ہوئی دکھائی دی، میرا گمان ہے کہ وہ «وَا بُنَيَّاهُ» ”ہائے میرا بچہ!“ پکار رہی تھی اور رو رہی تھی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اس عورت کو بلاؤ، کیونکہ یہی اس بچے کی ماں ہے۔“ وہ عورت اپنے بیٹے کے غم میں اس قدر نڈھال اور بے قرار تھی کہ فرطِ غم سے اس کا سر کھلا ہوا تھا اور اس پر اوڑھنی نہیں تھی۔ وہ قریب آئی اور روتے ہوئے بچے کو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی گود سے پکڑ لیا۔ بچہ ابھی اس کی گود ہی میں تھا کہ وہ مڑی، اور جیسے ہی اس کی نظر رسول اللہ ﷺ پر پڑی تو وہ (شرم و حیا سے) پکار اٹھی: «وَا خِزْيَاهُ» ”ہائے میری رسوائی! کیا میں رسول اللہ ﷺ کو (اس حالت میں) دیکھ رہی ہوں؟“ اس پر رسول اللہ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”کیا تم اس عورت کو اپنے بچے پر نہایت مہربان اور شفیق پاتے ہو؟“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: جی ہاں اے اللہ کے رسول ﷺ! اس کی یہ کیفیت اس کی مامتا اور رحمت کی گواہی کے لیے کافی ہے۔ تب آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! یقیناً اللہ تعالیٰ مؤمنوں پر اس عورت کے اپنے بچے پر رحم کرنے سے بھی کہیں زیادہ رحم فرمانے والا ہے۔“
[مسند عبد بن حميد: 524، المعجم الكبير للطبراني: 8133، وقال الحافظ البوصيري: إسناده حسن]۔