المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأدب— آدابِ معاشرت اور حسنِ اخلاق کا بیان۔
بَابُ إنصاف الرقيق وَمَا يقتنى مِنْهُ وَمَنْ الْحَيَوَانَاتِ باب: غلاموں اور مملوک جانوروں کے ساتھ انصاف کا بیان۔
حدیث نمبر: 2821
وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا رِشْدِينُ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللهِ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ : إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ الْأَغْنِيَاءَ أَنْ يَتَّخِذُوا الْغَنَمَ ، وَأَمَرَ الْفُقَرَاءَ أَنْ يَتَّخِذُوا الدَّجَاجَ .ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ: ”نبی کریم ﷺ نے صاحبِ ثروت اور مالدار لوگوں کو یہ حکم دیا کہ وہ بھیڑ بکریاں پالا کریں، اور غریب و نادار لوگوں کو یہ ہدایت فرمائی کہ وہ مرغیاں پالیں۔“
اسے امام احمد بن منیع نے روایت کیا ہے، تاہم اس کی سند میں رشدین بن سعد ضعیف راوی ہے جس کی بنا پر یہ روایت استناد کے لحاظ سے کمزور قرار پاتی ہے۔