المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأدب— آدابِ معاشرت اور حسنِ اخلاق کا بیان۔
بَابُ إنصاف الرقيق وَمَا يقتنى مِنْهُ وَمَنْ الْحَيَوَانَاتِ باب: غلاموں اور مملوک جانوروں کے ساتھ انصاف کا بیان۔
حدیث نمبر: 2822
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنِ الْبَرَاءِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ رَفَعَهُ مَرَّةً ، وَوَقَفَهُ مَرَّةً أُخْرَى ، قَالَ : الْغَنَمُ بَرَكَةٌ .ترجمہ
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ اسے کبھی مرفوعاً (یعنی نبی کریم ﷺ کے ارشاد کے طور پر) اور کبھی موقوفاً (یعنی اپنے قول کے طور پر) بیان کرتے تھے، انہوں نے فرمایا: ”بکریاں باعثِ برکت ہیں۔“
اس حدیث کی تخریج امام ابو یعلیٰ نے کی ہے، اور یہ روایت مختلف اسناد سے مروی ہے جو بکریوں کو پالنے اور ان میں خیر و برکت ہونے پر دلالت کرتی ہے۔