المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأدب— آدابِ معاشرت اور حسنِ اخلاق کا بیان۔
بَابُ إنصاف الرقيق وَمَا يقتنى مِنْهُ وَمَنْ الْحَيَوَانَاتِ باب: غلاموں اور مملوک جانوروں کے ساتھ انصاف کا بیان۔
حدیث نمبر: 2819
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ ، عَنْ أَبِي عَمَّارٍ ، عَنْ أَبِي مَيْسَرَةَ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : الْغَنَمُ بَرَكَةٌ ، وَالْإِبِلُ عِزٌّ لِأَهْلِهَا ، وَالْخَيْرُ مَعْقُودٌ فِي نَوَاصِي الْخَيْلِ ، وَالْعَبْدُ أَخُوكَ ، فَأَحْسِنْ إِلَيْهِ ، فَإِنْ رَأَيْتَهُ مَغْلُوبًا ، فَأَعِنْهُ .
مُرْسَلٌ .ترجمہ
ابو میسرہ عمرو بن شرحبیل رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”بکریاں سراپا برکت ہیں، اور اونٹ اپنے مالکوں کے لیے باعثِ عزت و توقیر ہیں، اور خیر و بھلائی گھوڑوں کی پیشانیوں کے ساتھ وابستہ ہے، اور غلام تمہارا بھائی ہے، پس اس کے ساتھ حسنِ سلوک سے کام لو، اور اگر تم اسے (کام کی زیادتی یا بوجھ کی وجہ سے) نڈھال اور مغلوب دیکھو تو اس کی مدد و معاونت کرو۔“
یہ روایت مرسل ہے۔