❮
❯
حدیث نمبر: 2818
قَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا الْخَلِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا ، حَدَّثَنَا عَوْفٌ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَصْلِحُوا مَثَاوِيَكُمْ ، وَاجْعَلُوا الرَّأْسَ رَأْسَيْنِ ، وَأَخِيفُوا الْهَوَامَّ قَبْلَ أَنْ تُخِيفَكُمْ .
قَالَ الْخَلِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا : مَثَاوِيكُمْ بُيُوتُكُمْ ، وَالرَّأْسُ رَأْسَيْنِ إِذَا أَرَادَ شِرَاءَ مَمْلُوكٍ بِعَشَرَةِ آلَافٍ ، فَلْيَشْتَرِ اثْنَيْنِ ، وَالْهَوَامُّ الْحَيَّاتُ .
ترجمہ

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تم اپنے ٹھکانوں اور گھروں کی حالت درست رکھو، اور ایک جان کے بدلے دو جانیں بناؤ، اور زہریلے موذی جانوروں کے تم پر خوف طاری کرنے سے پہلے ہی تم انہیں (ختم کر کے یا بھگا کر) خوفزدہ کر دیا کرو۔“
خلیل بن زکریا رحمہ اللہ نے اس کی وضاحت میں کہا ہے کہ «مَثَاوِيكُمْ» سے مراد تمہارے گھر ہیں، اور «الرَّأْسُ رَأْسَيْنِ» کا مطلب یہ ہے کہ جب کوئی شخص دس ہزار کے بدلے ایک غلام خریدنے کا ارادہ کرے تو اسے چاہیے کہ وہ (ایک کے بجائے) دو غلام خرید لے، اور «الْهَوَامُّ» سے مراد سانپ ہیں۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الأدب / حدیث: 2818
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف جدًا، موقوف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :موقوف، إسناده ضعيف جدًا. »
«انفرد به المصنف من هذا الطريق»