المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأدب— آدابِ معاشرت اور حسنِ اخلاق کا بیان۔
بَابُ مثل الجليس الصالح باب: نیک اور صالح ہم نشین کی مثال کا بیان۔
حدیث نمبر: 2817
وَقَالَ عَبْدٌ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا مُبَارَكُ بْنُ حَسَّانَ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : قِيلَ : يَا رَسُولَ اللهِ ، أَيُّ جُلَسَائِنَا خَيْرٌ ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ ذَكَّرَكُمْ بِاللهِ رُؤْيَتُهُ ، وَزَادَ فِي عَمَلِكُمْ مَنْطِقُهُ ، وَذَكَّرَكُمْ بِالْآخِرَةِ عَمَلُهُ .
2817 \ 1 - وَقَالَ أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبَانَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ هَاشِمٍ ، حَدَّثَنَا مُبَارَكٌ بِهِ .ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا گیا: ”اے اللہ کے رسول! ہمارے ہم نشینوں میں سے کون سا شخص سب سے بہتر ہے؟“ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”وہ شخص جس کا دیدار تمہیں اللہ کی یاد دلا دے، جس کی گفتگو تمہارے نیک عمل میں اضافے کا باعث بنے اور جس کا کردار تمہیں آخرت کی یاد دلائے۔“
امام ابو یعلیٰ نے بھی اپنی سند کے ساتھ عبداللہ بن محمد بن ابان، علی بن ہاشم اور مبارک بن حسان کے واسطے سے اسی متن کو روایت کیا ہے۔