المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأدب— آدابِ معاشرت اور حسنِ اخلاق کا بیان۔
بَابُ مثل الجليس الصالح باب: نیک اور صالح ہم نشین کی مثال کا بیان۔
حدیث نمبر: 2816
قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا الْمَخْزُومِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ خَيْثَمَةَ ، قَالَ : قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : مَثَلُ الْجَلِيسِ الصَّالِحِ كَمَثَلِ صَاحِبِ الْمِسْكِ ، إِنْ لَمْ يُعْطِكَ أَصَابَكَ مِنْ رِيحِهِ ، ( وَمَثَلُ الْجَلِيسِ السُّوءِ ، كَمَثَلِ صَاحِبِ الْكِيرِ إِنْ لَمْ يُحْرِقْ ثِيَابَكَ أَصَابَكَ مِنْ رِيحِهِ أَوْ أَنْتَنَكَ رِيحُهُ ) .
هَذَا إِسْنَادٌ لَهُ شَاهِدٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللهُ عَنْهُ .ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”نیک اور صالح ہم نشین کی مثال کستوری والے (عطر فروش) کی مانند ہے کہ اگر وہ تمہیں اس میں سے کچھ نہ بھی دے تو بھی اس کی خوشبو تمہیں ضرور پہنچے گی، اور برے ہم نشین کی مثال بھٹی دھونکنے والے (لوہار) جیسی ہے کہ اگر وہ تمہارے کپڑے نہ بھی جلائے تو بھی تمہیں اس کی بو پہنچے گی یا اس کی ناگوار بدبو تمہیں متاثر کرے گی۔“
اس روایت کی سند کا شاہد (تائیدی روایت) صحیحین میں سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی حدیث سے موجود ہے۔