المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأدب— آدابِ معاشرت اور حسنِ اخلاق کا بیان۔
بَابُ النَّهْيِ عَنْ النَّوْمِ عَلَى سطح ليس لَهُ تحظير باب: اس باب میں ایسی چھت یا بلند سطح پر سونے کی ممانعت کا بیان ہے جس کی کوئی حفاظتی منڈیر یا دیوار نہ ہو۔
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا الْخَلِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا ، حَدَّثَنَا حَبِيبُ بْنُ الشَّهِيدِ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ سَمُرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ بَاتَ عَلَى سَطْحٍ لَيْسَ بِمَحْجُورٍ ، فَقَدْ بَرِئَتْ مِنْهُ الذِّمَّةُ ، وَمَنْ رَمَى بِلَيْلٍ ، فَقَدْ بَرِئَتْ مِنْهُ الذِّمَّةُ ، وَمَنْ رَكِبَ الْبَحْرَ فِي ارْتِجَاجِهِ ، فَقَدْ بَرِئَتْ مِنْهُ الذِّمَّةُ .سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص کسی ایسی چھت پر رات گزارے یا سوئے جس کے گرد کوئی منڈیر یا حفاظتی آڑ موجود نہ ہو، تو اس سے اللہ تعالیٰ کا ذمہ (یعنی حفاظت و امان کا وعدہ) ختم ہو گیا، اور جس نے رات کی تاریکی میں (بے سوچے سمجھے یا کسی ہدف کے بغیر) تیر چلایا، تو اس سے بھی ذمہ بری ہو گیا، اور جو شخص سمندر میں اس وقت سوار ہوا جب اس میں سخت طغیانی اور تلاطم ہو، تو اس سے بھی اللہ تعالیٰ کا ذمہ ختم ہو گیا“۔
اس حدیث کی تخریج امام حارث بن ابی اسامہ نے اپنی مسند (بغیۃ الباحث: 2813) میں کی ہے، امام احمد اور امام حاکم نے بھی اسے روایت کیا ہے، اور علامہ البانی نے اسے ’صحیح الجامع‘ (6148) میں صحیح قرار دیا ہے۔