المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأدب— آدابِ معاشرت اور حسنِ اخلاق کا بیان۔
بَابُ النَّهْيِ عَنْ النَّوْمِ عَلَى سطح ليس لَهُ تحظير باب: اس باب میں ایسی چھت یا بلند سطح پر سونے کی ممانعت کا بیان ہے جس کی کوئی حفاظتی منڈیر یا دیوار نہ ہو۔
قَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : وَحَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ مُسْلِمِ بْنِ رَبَاحٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عُمَارَةَ قَالَ : فُرِشَ لِأَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ فِي سَطْحٍ أَفْيَحَ ، فَأَمَرَ بِهِ فِي بَعْضِ اللَّيْلِ ، فَأُنْزِلَ ، وَقَالَ : قَدْ كِدْتُ أَنْ أَبِيتَ اللَّيْلَةَ ، لَا ذِمَّةَ لِي .علی بن عمارہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے لیے ایک وسیع و عریض چھت پر بستر بچھایا گیا، پھر انہوں نے رات کے کسی پہر اسے وہاں سے ہٹانے کا حکم دے دیا، چنانچہ وہ بستر نیچے اتار لیا گیا، اور انہوں نے فرمایا: ”قریب تھا کہ میں آج کی رات اس حال میں بسر کرتا کہ میرے لیے (اللہ تعالیٰ کی طرف سے) کوئی ذمہ اور تحفظ باقی نہ رہتا۔“
اس حدیث کو امام احمد بن منیع رحمہ اللہ نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے اور اس کی سند کے راوی ثقہ ہیں؛ یہ اثر اس شرعی حکم کی عکاسی کرتا ہے جس میں ایسی چھت پر سونے سے منع کیا گیا ہے جس کی منڈیر نہ ہو تاکہ انسان گرنے سے محفوظ رہے اور اللہ کی حفاظت کا حقدار رہے۔