المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأدب— آدابِ معاشرت اور حسنِ اخلاق کا بیان۔
بَابُ الأدب فِي الجلوس والنوم باب: بیٹھنے اور سونے کے آداب کا بیان۔
وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا أَبُو الْعَلَاءِ الْحَسَنُ بْنُ سَوَّارٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ .
2811 \ 2 - قَالَ الْحَارِثُ : وَحَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ قَالَ : إِنَّ أَبَا سَعِيدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَانَ يَشْتَكِي رِجْلَهُ ، فَدَخَلَ عَلَيْهِ أَخُوهُ ، وَقَدْ جَعَلَ إِحْدَى رِجْلَيْهِ عَلَى الْأُخْرَى ، وَهُوَ مُضْطَجِعٌ ، فَضَرَبَهُ ضَرْبَةً بِيَدِهِ عَلَى رِجْلِهِ الْوَجِعَةِ ، فَأَوْجَعَهُ ، فَقَالَ : أَوْجَعْتَنِي ، أَوَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّ رِجْلِي وَجِعَةٌ ، قَالَ : بَلَى . قَالَ : فَمَا حَمَلَكَ عَلَى ذَلِكَ ؟ قَالَ : أَوَلَمْ تَسْمَعْ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَانَا عَنْ ذَلِكَ .
قُلْتُ : أَخُوهُ اسْمُهُ قَتَادَةُ بْنُ النُّعْمَانِ .سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ اپنے پاؤں کی تکلیف میں مبتلا تھے، ان کے بھائی ان کے پاس تشریف لائے تو دیکھا کہ وہ لیٹے ہوئے ہیں اور انہوں نے اپنا ایک پاؤں دوسرے پر رکھا ہوا ہے، ان کے بھائی نے ان کے اسی درد مند پاؤں پر اپنے ہاتھ سے ضرب لگائی جس سے انہیں شدید تکلیف ہوئی، انہوں نے کہا: ”تم نے مجھے دکھ پہنچایا ہے، کیا تمہیں علم نہیں تھا کہ میرا پاؤں درد کر رہا ہے؟“ انہوں نے جواب دیا: ”کیوں نہیں (مجھے علم تھا)“، ابوسعید رضی اللہ عنہ نے پوچھا: ”تو پھر تمہیں اس عمل پر کس بات نے آمادہ کیا؟“ انہوں نے کہا: ”کیا تم نے نہیں سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں اس طرح (پاؤں پر پاؤں رکھ کر لیٹنے) سے منع فرمایا ہے؟“
میں کہتا ہوں کہ ان کے ان بھائی کا نام قتادہ بن نعمان رضی اللہ عنہ ہے۔