المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الصلاة— نماز کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ تَأْخِيرِ الْعِشَاءِ باب: نمازِ عشاء کو مؤخر کرنے کا بیان۔
قَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَازِمٍ ، ثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَصْحَابِهِ ذَاتَ لَيْلَةٍ وَهُمْ يَنْتَظِرُونَ الْعِشَاءَ ، فَقَالَ : " صَلَّى النَّاسُ وَرَقَدُوا وَأَنْتُمْ تَنْتَظِرُونَهَا ؟ أَمَا إِنَّكُمْ فِي صَلَاةٍ مَا انْتَظَرْتُمُوهَا " ، ثُمَّ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْلَا ضَعْفُ الضَّعِيفِ ، وَكِبَرُ الْكَبِيرِ لَأَخَّرْتُ هَذِهِ الصَّلَاةَ إِلَى شَطْرِ اللَّيْلِ " .
أَخْرَجَهُ ابْنُ حِبَّانَ " فِي صَحِيحِهِ " ، عَنْ أَبِي يَعْلَى .
وَتَابَعَهُ سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ ، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ [مُحَمَّدِ بْنِ خَازِمٍ ] .سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک رات اللہ کے رسول ﷺ اپنے صحابہ کے پاس تشریف لائے جبکہ وہ عشاء کی نماز کا انتظار کر رہے تھے، تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”لوگ نماز پڑھ کر سو چکے ہیں اور تم اب تک اس کا انتظار کر رہے ہو؟ یاد رکھو! جب تک تم نماز کے انتظار میں ہو، تم نماز ہی کی حالت میں ہو۔“ پھر نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اگر کمزوروں کی ناتوانی اور بوڑھوں کے بڑھاپے کا خیال نہ ہوتا تو میں یقیناً اس نماز کو آدھی رات تک مؤخر کر دیتا۔“
اسے امام ابن حبان نے اپنی ”صحیح“ میں امام ابو یعلیٰ کے واسطے سے روایت کیا ہے، اور سعدان بن نصر نے بھی ابومعاویہ (محمد بن خازم) سے اس کی متابعت کی ہے۔