المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الصلاة— نماز کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ كَرَاهِيَةِ تَسْمِيَتِهَا الْعَتَمَةَ باب: نمازِ عشاء کو عتمہ کہنے کی کراہت کا بیان۔
قَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ ، حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الطَّائِفِ ، عَنْ غَيْلَانَ بْنِ شُرَحْبِيلَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا يَغْلِبَنَّكُمُ الْأَعْرَابُ عَلَى اسْمِ [صَلَاتِكُمْ] ، فَإِنَّهَا فِي كِتَابِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ : الْعِشَاءُ ، قَالَ اللهُ تَعَالَى : وَمِنْ بَعْدِ صَلاةِ الْعِشَاءِ ثَلاثُ عَوْرَاتٍ لَكُمْ وَإِنَّمَا تُسَمِّيهَا الْأَعْرَابُ الْعَتَمَةَ مِنْ أَجْلِ إِبِلِهِمْ وَحِلَابِهَا " .
282 \ 2 - وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، ثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، ثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بِهِ .سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”دیہاتی لوگ تمہاری نماز کے نام کے معاملے میں تم پر ہرگز غالب نہ آنے پائیں، کیونکہ اللہ عزوجل کی کتاب میں اس کا نام عشاء ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے: ﴿وَمِنْ بَعْدِ صَلَاةِ الْعِشَاءِ ثَلَاثُ عَوْرَاتٍ لَكُمْ﴾ [سورة النور: 58]، جبکہ بدوی لوگ تو اسے محض اپنے اونٹوں کو چرانے کے بعد واپس لانے اور ان کا دودھ دوہنے کے وقت کی مناسبت سے عتمہ پکارتے ہیں۔“
امام مسدد نے کہا کہ ہمیں یحییٰ بن سعید نے عبد العزیز بن ابی رواد سے، انہوں نے طائف کے ایک شخص سے، انہوں نے غیلان بن شرحبیل سے، اور انہوں نے سیدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث روایت کی، نیز امام ابو یعلیٰ نے کہا کہ ہمیں ابو خیثمہ نے، انہیں عثمان بن عمر نے، اور انہیں عبد العزیز نے اسی مذکورہ سند کے ساتھ یہ روایت بیان کی ہے۔