المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الصلاة— نماز کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الْإِبْرَادِ بِالظُّهْرِ باب: نمازِ ظہر کو (شدتِ حرارت کے موقع پر) ٹھنڈے وقت میں ادا کرنے کا بیان۔
قَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ دَاوُدَ ، ثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، [أَظُنُّهُ] عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَبْرِدُوا بِالظُّهْرِ فِي الْحَرِّ " .
280 \ 2 - وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ ، ثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ دَاوُدَ ، بِهِ . قَالَ أَبُو يَعْلَى : كَذَا حَدَّثَنَا بِهِ عَلَى الشَّكِّ .
280 \ 3 - وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ قَالَ : حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، ثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ دَاوُدَ ، بِسَنَدِهِ وَلَمْ يَشُكَّ ، وَلَفْظُهُ : أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ ، فَأَبْرِدُوا بِالصَّلَاةِ " .
وَقَالَ : غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ .سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے (راوی کے شک کے ساتھ) روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”شدید گرمی کے موسم میں ظہر کی نماز کو ٹھنڈا کر کے (یعنی تپش کم ہونے پر) ادا کیا کرو۔“
امام ابو یعلیٰ نے بھی اپنی سند کے ساتھ اس حدیث کو نقل کیا اور کہا کہ ہمارے سامنے یہ روایت راوی کے شک کے ساتھ بیان کی گئی ہے۔
امام بزار نے اسے اپنی سند سے بغیر کسی شک کے ان الفاظ میں روایت کیا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”بے شک گرمی کی شدت جہنم کے سانس لینے اور اس کے جوش کی وجہ سے ہوتی ہے، لہٰذا تم نماز کو ٹھنڈے وقت میں ادا کیا کرو۔“
نیز انہوں نے فرمایا کہ یہ حدیث غریب ہے اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے صرف اسی طریق سے جانی جاتی ہے۔