❮
❯
حدیث نمبر: 2806
قَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا الْخَلِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ ، فَأَقْبَلَ رَجُلٌ ، فَلَمَّا نَظَرَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : بِئْسَ أَخُو الْعَشِيرَةِ ، أَوْ بِئْسَ الرَّجُلُ ، فَلَمَّا دَنَا مِنْهُ أَدْنَى مَجْلِسَهُ ، فَلَمَّا قَامَ وَذَهَبَ ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللهِ حِينَ أَبْصَرْتَهُ قُلْتَ : بِئْسَ أَخُو الْعَشِيرَةِ أَوْ بِئْسَ الرَّجُلُ ثُمَّ أَدْنَيْتَ مَجْلِسَهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّهُ مُنَافِقٌ أُدَارِيهِ عَنْ نِفَاقِهِ ، وَأَخْشَى أَنْ يُفْسِدَ عَلَيَّ غَيْرَهُ .
ترجمہ

سیدنا صفوان بن عسال رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم نبی کریم ﷺ کے ہمراہ ایک سفر میں تھے کہ ایک شخص سامنے سے آتا ہوا دکھائی دیا، جب رسول اللہ ﷺ کی نظر اس پر پڑی تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”یہ اپنے قبیلے کا کتنا ہی برا آدمی ہے“ یا فرمایا: ”کتنا ہی برا شخص ہے“۔ پھر جب وہ آپ ﷺ کے قریب پہنچا تو آپ ﷺ نے اسے اپنی مجلس میں قریب جگہ عطا فرمائی۔ جب وہ شخص وہاں سے اٹھ کر چلا گیا تو صحابہ کرام نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! جب آپ نے اسے دیکھا تھا تو آپ نے فرمایا تھا کہ ”یہ اپنے قبیلے کا کتنا ہی برا آدمی ہے“ یا ”کتنا ہی برا شخص ہے“، لیکن پھر آپ نے اسے اپنی مجلس میں اپنے قریب بٹھایا؟ تو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”یقیناً وہ منافق ہے، میں اس کے نفاق کے پیشِ نظر اس کے ساتھ محض مدارات اور مصلحت کا برتاؤ کر رہا ہوں، اور مجھے یہ خوف تھا کہ وہ دوسروں کے ذہنوں کو میرے خلاف مسموم کر کے انہیں بگاڑ نہ دے“۔
اسے امام حارث نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، اس کی سند میں خلیل بن زکریا نامی راوی ضعیف ہے جس کی وجہ سے اس کی سند میں کلام موجود ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الأدب / حدیث: 2806
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف جدًا
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف جدًا. »
«انفرد به المصنف من هذا الطريق»