❮
❯
حدیث نمبر: 2805
قَالَ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنِ ابْنِ رَبِيعَةَ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، قَالَ : بَعَثَنِي أَبِي ، وَبَعَثَ الْعَبَّاسُ ابْنَهُ الْفَضْلَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ... فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، قَالَ : فَلَمَّا أَتَيْنَاهُمْ قَالُوا : وَمَا وَرَاءَكُمْ أَسْعَدُ ، أَمْ سَعِيدٌ . ؟
ترجمہ

سیدنا ربیعہ بن حارث بن عبد المطلب کے صاحبزادے (عبداللہ) سے روایت ہے، انہوں نے بیان کیا کہ میرے والد نے مجھے اور سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے اپنے صاحبزادے فضل رضی اللہ عنہ کو نبی کریم ﷺ کی خدمتِ اقدس میں روانہ کیا... پھر انہوں نے (مکمل) حدیث بیان کی، وہ کہتے ہیں کہ جب ہم ان کے پاس واپس پہنچے تو انہوں نے (انجام جاننے کے لیے) پوچھا: ”تمہارے پیچھے کیا خبر ہے؟ کیا تم کامیابی کی خوشخبری لے کر آئے ہو یا ناکام رہے ہو؟“
اس حدیث کی تخریج امام ابن ابی شیبہ نے کی ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الأدب / حدیث: 2805
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف، وأصل الحديث صحيح. »
«أخرجه المطالب العالية لابن حجر برقم: 911»