المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الصلاة— نماز کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ تَأْخِيرِ الْعَصْرِ وَتَعْجِيلِهَا باب: نمازِ عصر میں تاخیر کرنے اور اسے جلدی ادا کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 279
وَقَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، ثَنَا زِيَادُ بْنُ لَاحِقٍ ، عَنِ امْرَأَةٍ يُقَالُ لَهَا : تَمِيمَةُ ، قَالَتْ : دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا ، [فَصَلَّتِ] الْعَصْرَ فِي السَّاعَةِ الَّتِي تَدْعُونَهَا بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ ، ثُمَّ قَالَتْ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا : إِنَّا آلَ مُحَمَّدٍ لَا نُصَلِّي الصُّفَيْرَا .ترجمہ
سیدہ تمیمہ نامی خاتون سے روایت ہے کہ میں ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئی تو انہوں نے عصر کی نماز اس وقت ادا کی جسے تم لوگ دو نمازوں کے درمیانی وقت سے موسوم کرتے ہو، پھر انہوں نے فرمایا: ”بے شک ہم آلِ محمد ﷺ اس وقت نماز نہیں پڑھتے جب سورج کی روشنی زرد پڑ جائے (یعنی ہم عصر کی نماز اتنی تاخیر سے نہیں پڑھتے کہ دھوپ پیلی پڑ جائے)۔“
[تخریج: اس روایت کو امام اسحاق بن راہویہ نے 'المسند' (1251) میں نقل کیا ہے، اس کی سند میں موجود تمیمہ نامی خاتون کے حالات مستور ہیں، تاہم عصر کی اول وقت میں ادائیگی دیگر صحیح احادیث سے ثابت ہے]۔