❮
❯
حدیث نمبر: 2799
وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، ثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُثْمَانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَوْلَى آلِ طَلْحَةَ ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ قَالَ: حَدَّثَتْنِي ظِئْرُ مُحَمَّدِ بْنِ طَلْحَةَ ، قَالَتْ : لَمَّا وُلِدَ مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، أَتَيْنَا بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : مَا سَمَّيْتُمُوهُ ؟ ، قُلْنَا : مُحَمَّدًا ، قَالَ : هَذَا اسْمِي ، وَكُنْيَتُهُ أَبُو الْقَاسِمِ .
ترجمہ

عیسیٰ بن طلحہ سے روایت ہے کہ انہیں محمد بن طلحہ کی دایہ (رضاعی ماں) نے بتایا کہ جب محمد بن طلحہ رضی اللہ عنہ کی ولادت ہوئی، تو ہم انہیں لے کر نبی کریم ﷺ کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوئے، آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”تم نے اس کا کیا نام رکھا ہے؟“ ہم نے عرض کی: ”محمد“، تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”یہ میرا نام ہے، اور اس کی کنیت ابوالقاسم ہے۔“
اس کی سند میں موجود راوی ابراہیم بن عثمان بن ابی شیبہ ضعیف ہے، جس کی وجہ سے یہ سند کمزور ہے، تاہم محمد بن طلحہ کا نام نبی کریم ﷺ کے نام پر ہونا اور ان کی کنیت ابوالقاسم رکھنا دیگر تاریخی روایات سے بھی ثابت ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الأدب / حدیث: 2799
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسنادہ ضعیف »
«أخرجه المستدرك على الصحيحين برقم: 5659، وأخرجه مجمع الزوائد ومنبع الفوائد برقم: 12843، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 4788»