المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأدب— آدابِ معاشرت اور حسنِ اخلاق کا بیان۔
بَابُ إباحة التسمي بأسماء الأنبياء وَمَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ ذَلِكَ باب: انبیاء کے نام رکھنے کی اجازت اور اس کی کراہت سے متعلق روایات کا بیان۔
حدیث نمبر: 2798
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ شَفِيٍّ ، قَالَ : رَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : مَنْ وُلِدَ لَهُ ثَلَاثَةٌ مِنَ الْوَلَدِ ، فَلَمْ يُسَمِّ أَحَدَهُمْ مُحَمَّدًا فَقَدْ جَهِلَ .ترجمہ
نضر بن شفی اسے نبی کریم ﷺ سے مرفوعاً روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جس شخص کے ہاں تین بیٹے پیدا ہوں اور وہ ان میں سے کسی ایک کا نام بھی (برکت کی نیت سے) محمد ﷺ نہ رکھے، تو یقیناً اس نے نادانی اور محرومی کا ثبوت دیا ہے۔“
اس حدیث کو امام حارث نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، تاہم اس کی سند میں نضر بن شفی کے مجہول ہونے اور اسماعیل بن عیاش کی غیر شامیوں سے روایت میں ضعف کی وجہ سے یہ روایت سندی اعتبار سے نہایت کمزور اور غیر مستند ہے۔