المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأدب— آدابِ معاشرت اور حسنِ اخلاق کا بیان۔
بَابُ إباحة التسمي بأسماء الأنبياء وَمَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ ذَلِكَ باب: انبیاء کے نام رکھنے کی اجازت اور اس کی کراہت سے متعلق روایات کا بیان۔
حدیث نمبر: 2797
وَقَالَ الطَّيَالِسِيُّ : حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ عَطِيَّةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : تُسَمُّونَهُمْ مُحَمَّدًا ، ثُمَّ تَلْعَنُونَهُمْ .
2797 \ 2 - وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى ، ثَنَا أَبُو دَاوُدَ بِهَذَا .
2797 \ 3 - وَقَالَ عَبْدٌ : حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ عَطِيَّةَ ، بِهِ .ترجمہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تم ان (بچوں) کے نام تو (میرے نام کی برکت کے لیے) محمد رکھتے ہو، مگر پھر (معمولی رنجش یا غصے کی حالت میں) انہیں لعنت ملامت کا نشانہ بناتے ہو۔“
اس حدیث کو امام طیالسی نے حَکَم بن عطیہ عن ثابت کے واسطے سے روایت کیا ہے؛ نیز امام ابویعلیٰ نے ابوموسیٰ اور ابوداؤد طیالسی کے طریق سے، اور امام عبد بن حمید نے ابوالولید اور حَکَم بن عطیہ کے طریق سے اسی متن کی تخریج کی ہے۔