المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأدب— آدابِ معاشرت اور حسنِ اخلاق کا بیان۔
بَابُ إباحة التسمي بأسماء الأنبياء وَمَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ ذَلِكَ باب: انبیاء کے نام رکھنے کی اجازت اور اس کی کراہت سے متعلق روایات کا بیان۔
حدیث نمبر: 2796
قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ : إِنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ جَمَعَ كُلَّ غُلَامٍ اسْمُهُ اسْمُ نَبِيٍّ ، فَأَدْخَلَهُمْ دَارًا ، وَأَرَادَ أَنْ يُغَيِّرَ أَسْمَاءَهُمْ ، فَشَهِدَ آبَاؤُهُمْ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمَّاهُمْ قَالَ : وَكَانَ أَبِي مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ فِيهِمْ .
هَذَا إِسْنَادٌ حَسَنٌ .ترجمہ
ابوبکر بن محمد بن عمرو بن حزم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ان تمام لڑکوں کو مجتمع فرمایا جن کا نام کسی نبی کے نام پر تھا، پھر انہیں ایک مکان میں داخل کیا اور یہ پختہ ارادہ کر لیا کہ ان کے نام تبدیل کر دیں، تب ان کے والدین نے یہ شہادت دی کہ "بلا شبہ رسول اللہ ﷺ نے خود ان کے یہ نام تجویز فرمائے ہیں"؛ راوی کہتے ہیں کہ میرے والد محمد بن عمرو بن حزم بھی انہی بچوں میں شامل تھے۔
اس حدیث کی سند حسن ہے۔