❮
❯
حدیث نمبر: 2794
حَدَّثَنَا دَاوُدُ ، ثَنَا مَيْسَرَةُ ، عَنْ غَالِبٍ الْجَزَرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا رَفَعَهُ قَالَ : صِفَةُ الْعَاقِلِ يَحْلُمُ عَمَّنْ جَهِلَ عَلَيْهِ ، وَيَتَجَاوَزُ عَمَّنْ ظَلَمَهُ ، وَيَتَوَاضَعُ لِمَنْ هُوَ دُونَهُ ، وَيُسَابِقُ مَنْ هُوَ فَوْقَهُ فِي طَلَبِ الْبِرِّ ، وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَتَكَلَّمَ فَكَّرَ ، فَإِذَا كَانَ خَيْرًا تَكَلَّمَ فَغَنِمَ ، وَإِنْ كَانَ شَرًّا سَكَتَ فَسَلِمَ ، وَإِذَا عَرَضَتْ لَهُ فِتْنَةٌ اسْتَعْصَمَ بِاللهِ ، وَأَمْسَكَ يَدَهُ وَلِسَانَهُ ، وَإِذَا رَأَى فَضِيلَةً انْتَهَزَهَا ، لَا يُفَارِقُهُ الْحَيَاءُ ، وَلَا يَبْدُو مِنْهُ الْحِرْصُ ، فَتِلْكَ عَشْرُ خِصَالٍ ، يُعْرَفُ بِهَا الْعَاقِلُ ، قَالَ : وَصِفَةُ الْجَاهِلِ أَنْ يَظْلِمَ مَنْ يُخَالِطُهُ ، وَيَقْتَدِي عَمَّنْ هُوَ دُونَهُ ، وَيَتَطَاوَلُ عَلَى مَنْ هُوَ فَوْقَهُ ، كَلَامُهُ بِغَيْرِ تَدَبُّرٍ ، فَإِنْ تَكَلَّمَ أَثِمَ ، وَإِنْ سَكَتَ سَهَا ، وَإِنْ عَرَضَتْ لَهُ فِتْنَةٌ سَارَعَ إِلَيْهَا فَأَرْدَتْهُ ، وَإِنْ رَأَى فَضِيلَةً أَعْرَضَ عَنْهَا ، وَأَبْطَأَ عَنْهَا ، لَا يَخَافُ ذُنُوبَهُ الْقَدِيمَةَ ، وَلَا يَرْتَدِعُ فِيمَا يَبْقَى مِنْ عُمُرِهِ عَنِ الذُّنُوبِ ، مُتَوَانِيًا عَنِ الْبِرِّ ، مُبَطِّئًا عَنْهُ ، غَيْرَ مُكْتَرِثٍ لِمَا فَاتَهُ مِنْ ذَلِكَ ، أَوْ ضَيَّعَهُ ، عَشْرُ خِصَالٍ مِنْ صِفَةِ الْجَاهِلِ الَّذِي حُرِمَ الْعَقْلَ .
ترجمہ

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مرفوعاً روایت ہے کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”عقلمند کی پہچان یہ ہے کہ جو اس کے ساتھ نادانی اور جہالت سے پیش آئے وہ اس کے مقابلے میں بردباری اور تحمل کا مظاہرہ کرتا ہے، جو اس پر ظلم کرے اسے معاف کر دیتا ہے، اپنے سے کم تر مرتبے والے کے سامنے عاجزی و انکساری اختیار کرتا ہے، اور نیکی و بھلائی کی طلب میں اپنے سے برتر لوگوں کے ساتھ مسابقت یعنی مقابلہ کرتا ہے۔ جب وہ بولنے کا ارادہ کرتا ہے تو پہلے غور و فکر کرتا ہے، اگر بات خیر پر مبنی ہو تو کلام کر کے نفع و ثواب سمیٹتا ہے اور اگر بات شر پر مبنی ہو تو خاموشی اختیار کر کے گناہ سے محفوظ رہتا ہے۔ جب اسے کسی فتنے یا آزمائش کا سامنا ہو تو وہ اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرتا ہے اور اپنے ہاتھ اور زبان کو قابو میں رکھتا ہے۔ جب وہ کسی نیکی یا فضیلت کے موقع کو دیکھتا ہے تو اسے غنیمت جان کر فوراً لپکتا ہے۔ حیا و شرم اس سے کبھی جدا نہیں ہوتی اور نہ ہی اس سے کبھی لالچ اور حرص کا ظہور ہوتا ہے؛ پس یہ وہ دس خصلتیں ہیں جن کے ذریعے ایک صاحبِ عقل انسان کو پہچانا جاتا ہے۔“ آپ ﷺ نے مزید فرمایا: ”اور جاہل کی علامت یہ ہے کہ وہ اپنے میل جول رکھنے والے پر ظلم کرتا ہے، اپنے سے کم تر یعنی علم و عمل میں پست شخص کی اقتدا کرتا ہے، اپنے سے برتر شخص کے سامنے تکبر اور سرکشی دکھاتا ہے، اور اس کا کلام بغیر کسی تدبر اور سوچ بچار کے ہوتا ہے؛ پس اگر وہ بولتا ہے تو گناہ گار ہوتا ہے اور اگر خاموش رہتا ہے تو غفلت کا شکار رہتا ہے۔ جب اس کے سامنے کوئی فتنہ ظاہر ہوتا ہے تو وہ اس کی طرف دوڑ پڑتا ہے جو اسے ہلاکت کے گڑھے میں گرا دیتا ہے، اور جب کسی فضیلت و نیکی کو دیکھتا ہے تو اس سے منہ موڑ لیتا ہے اور اس میں تاخیر و سستی کرتا ہے۔ وہ اپنے گزشتہ گناہوں کا کوئی خوف نہیں رکھتا اور نہ ہی اپنی باقی ماندہ زندگی میں گناہوں سے باز رہتا ہے۔ وہ نیکی کے کاموں میں کاہلی کرنے والا اور دیر سے پہنچنے والا ہوتا ہے اور جو بھلائی اس سے فوت ہو جائے یا جسے وہ ضائع کر دے اس کی اسے کوئی پرواہ نہیں ہوتی؛ یہ وہ دس خصلتیں ہیں جو اس جاہل کی صفت ہیں جو عقل کی دولت سے محروم کر دیا گیا ہے۔“
[تخريج: یہ روایت امام حارث نے اپنی مسند (رقم: 979) میں نقل کی ہے، اس کی سند میں میسرہ بن عبد ربہ کذاب راوی ہے، اس لیے یہ روایت موضوع ہے]

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الأدب / حدیث: 2794
درجۂ حدیث محدثین: إسناده موضوع
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :حديث موضوع. »
«انفرد به المصنف من هذا الطريق»