❮
❯
حدیث نمبر: 2793
حَدَّثَنَا دَاوُدُ ، ثَنَا نَصْرُ بْنُ طَرِيفٍ ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ الْمُعْتَمِرِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ ، قَالَ : إِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ خَرَجَ ذَاتَ يَوْمٍ ، فَاسْتَقْبَلَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ : مَا جِئْتَ بِهِ يَا رَسُولَ اللهِ ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : الْعَقْلُ ، قَالَ : بِمَ أُمِرْتَ ؟ قَالَ : بِالْعَقْلِ ، قَالَ : فَبِمَ يُجَازَى النَّاسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ؟ قَالَ : بِالْعَقْلِ ، قَالَ : فَكَيْفَ لَنَا بِالْعَقْلِ ؟ قَالَ : إِنَّ الْعَقْلَ لَا غَايَةَ لَهُ ، وَلَكِنْ مَنْ أَحَلَّ حَلَالَ اللهِ ، وَحَرَّمَ حَرَامَهُ ، سُمِّيَ عَاقِلًا ، فَإِنِ اجْتَهَدَ فِي الْعِبَادَةِ وَسَمَحَ - أَوْ شَمَخَ - فِي مَرَاتِبِ الْمَعْرُوفِ ، وَلَا حَظَّ لَهُ مِنْ عَقْلٍ يَدُلُّهُ عَلَى اتِّبَاعِ أَمْرِ اللهِ تَعَالَى ، وَاجْتِنَابِ مَا نَهَى عَنْهُ ، فَأُولَئِكَ هُمُ الْأَخْسَرُونَ أَعْمَالًا الَّذِينَ ضَلَّ سَعْيُهُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَهُمْ يَحْسَبُونَ أَنَّهُمْ يُحْسِنُونَ صُنْعًا .
ترجمہ

سوید بن غفلہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ایک دن باہر تشریف لائے تو راستے میں نبی کریم ﷺ سے ان کی ملاقات ہوئی، انہوں نے عرض کی: ”اے اللہ کے رسول! آپ کیا (پیغام) لے کر تشریف لائے ہیں؟“ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”«الْعَقْلُ» ”عقل۔““ انہوں نے دریافت کیا: ”آپ کو کس چیز کا حکم دیا گیا ہے؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”عقل کا۔“ انہوں نے عرض کی: ”قیامت کے دن لوگوں کو کس بنیاد پر جزا و سزا دی جائے گی؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”عقل کی بنیاد پر۔“ انہوں نے عرض کی: ”ہمارے لیے عقل کی حقیقت و پہچان کیا ہے؟“ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”بے شک عقل (کے کمال) کی تو کوئی انتہا نہیں ہے، لیکن جس نے اللہ کے حلال کردہ کو حلال جانا اور اس کے حرام کردہ کو حرام مانا، اسے ہی «عَاقِلًا» ”عقل مند“ نام دیا جاتا ہے۔ پس اگر کوئی شخص عبادت میں خوب محنت و مشقت کرے اور کارِ خیر کے مراتب میں بلند مقام حاصل کر لے، لیکن اس کے پاس وہ عقل نہ ہو جو اسے اللہ تعالیٰ کے حکم کی پیروی اور اس کی منع کردہ چیزوں سے بچنے کی راہ دکھائے، تو ایسے ہی لوگ ﴿الْأَخْسَرُونَ أَعْمَالًا الَّذِينَ ضَلَّ سَعْيُهُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَهُمْ يَحْسَبُونَ أَنَّهُمْ يُحْسِنُونَ صُنْعًا﴾ [سورة الكهف: 103-104] ”اعمال کے اعتبار سے بدترین خسارہ پانے والے ہیں، جن کی دنیاوی زندگی کی تمام تر جدوجہد اکارت گئی اور وہ اسی گمان میں رہے کہ وہ بڑے اچھے کام کر رہے ہیں۔““
اس حدیث کی سند میں نصر بن طریف "ابو جزء" نامی راوی ہے جسے امام بخاری اور دیگر ائمہ جرح و تعدیل نے "متروک الحدیث" اور "کذاب" قرار دیا ہے، لہذا یہ روایت سخت ضعیف اور من گھڑت ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الأدب / حدیث: 2793
درجۂ حدیث محدثین: إسناده موضوع
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :حديث موضوع. »
«انفرد به المصنف من هذا الطريق»