المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأدب— آدابِ معاشرت اور حسنِ اخلاق کا بیان۔
بَابُ العقل وَفَضْلِهِ باب: عقل اور اس کی فضیلت و منقبت کا بیان۔
حَدَّثَنَا دَاوُدُ ، ثَنَا عَبَّادٌ ، عَنْ عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ مُجَاهِدٍ ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ : قُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا : أَيُّ حَاجِّ بَيْتِ اللهِ أَفْضَلُ ، وَأَعْظَمُ أَجْرًا ؟ قَالَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : مَنْ جَمَعَ ثَلَاثَ خِصَالٍ : نِيَّةً صَادِقَةً ، وَعَقْلًا وَافِرًا ، وَنَفَقَةً مِنْ حَلَالٍ ، فَذُكِرَ ذَلِكَ لِابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فَقَالَ : صَدَقَ ، قُلْتُ إِذَا صَدَقَتْ نِيَّتُهُ وَكَانَتْ نَفَقَتُهُ مِنْ حَلَالٍ فَمَا يَضُرُّهُ قِلَّةُ عَقْلِهِ ، قَالَ : يَا أَبَا الْحَجَّاجِ ، تَسْأَلُنِي عَمَّا سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهُ ، فَقَالَ : وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، مَا أَطَاعَ الْعَبْدُ رَبَّهُ بِشَيْءٍ ، وَلَا جِهَادٍ ، وَلَا شَيْءٍ مِمَّا يَكُونُ مِنْهُ مِنْ أَنْوَاعِ الْبِرِّ إِذَا لَمْ يَكُنْ يَعْقِلُهُ ، وَلَوْ أَنَّ جَاهِلًا بِعَقْلِهِ فَاقَ الْمُجْتَهِدِينَ فِي الْعِبَادَةِ ، كَانَ مَا يُفْسِدُ أَكْثَرَ مِمَّا يُصْلِحُ .مجاہد رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے دریافت کیا کہ بیت اللہ کا کون سا حاجی سب سے افضل اور اجر و ثواب کے لحاظ سے سب سے عظیم ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ ”وہ شخص جس میں تین اوصاف یکجا ہو جائیں: سچی نیت، کامل عقل و فہم اور حلال مال سے خرچ کرنا۔“ پھر جب اس بات کا ذکر سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے کیا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ ”انہوں نے بالکل سچ کہا۔“ میں نے عرض کیا کہ اگر نیت سچی ہو اور مال بھی حلال ہو تو عقل کی کمی اسے کیا نقصان پہنچائے گی؟ انہوں نے فرمایا: ”اے ابوالحجاج! تم مجھ سے وہی سوال کر رہے ہو جو میں نے رسول اللہ ﷺ سے کیا تھا، تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے! بندے نے اپنے رب کی فرمانبرداری کسی بھی ایسی چیز سے نہیں کی، نہ جہاد سے اور نہ ہی نیکی کی کسی اور صنف سے، جب تک کہ وہ اسے اپنی عقل و شعور سے نہ سمجھ لے، اور اگر کوئی نادان شخص اپنی عقل کی بنا پر عبادت میں جی توڑ کوشش کرنے والوں سے بھی سبقت لے جائے، تب بھی اس کا پیدا کردہ بگاڑ اس کی اصلاح سے کہیں زیادہ ہوگا۔““
اس روایت کی سند میں عبدالوہاب بن مجاہد کذاب اور متروک راوی ہے، جس کی وجہ سے یہ حدیث سخت ضعیف اور ناقابل اعتبار ہے۔