المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأدب— آدابِ معاشرت اور حسنِ اخلاق کا بیان۔
بَابُ العقل وَفَضْلِهِ باب: عقل اور اس کی فضیلت و منقبت کا بیان۔
حَدَّثَنَا دَاوُدُ ، ثَنَا مَيْسَرَةُ ، عَنْ مُوسَى بْنِ جَابَانَ ، عَنْ لُقْمَانَ بْنِ عَامِرٍ ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ : عُوَيْمِرٌ ، ازْدَدْ عَقْلًا ، تَزْدَدْ مِنْ رَبِّكَ قُرْبًا قَالَ : قُلْتُ : بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللهِ ، وَكَيْفَ لِي بِذَلِكَ ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اجْتَنِبْ مَحَارِمَ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ ، وَأَدِّ فَرَائِضَ اللهِ تَعَالَى ، تَكُنْ عَاقِلًا ، وَتَنَفَّلْ مِنَ الْأَعْمَالِ الصَّالِحَاتِ ، تَزْدَدْ بِهَا فِي عَاجِلِ الدُّنْيَا رِفْعَةً وَكَرَامَةً ، وَتَنَلْ بِهَا مِنْ رَبِّكَ الْقُرْبَ وَالْعِزَّةَ .سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ان سے فرمایا: ”اے عویمر! اپنی عقل و دانش میں اضافہ کرو، اس کے نتیجے میں تم اپنے رب کے تقرب میں بڑھ جاؤ گے۔“ انہوں نے عرض کیا: ”یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، میرے لیے یہ کیسے ممکن ہے؟“ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اللہ عزوجل کی حرام کردہ تمام چیزوں سے مکمل اجتناب کرو اور اللہ تعالیٰ کے فرائض کو کما حقہ ادا کرو، تو تم حقیقت میں عقل مند ٹھہرو گے؛ نیز فرائض کے ساتھ ساتھ نیک اعمال میں نوافل کا بکثرت اہتمام کرو، ان کی بدولت تمہیں اس دنیا میں رفعت اور تکریم حاصل ہوگی، اور تم اپنے پروردگار کی بارگاہ میں قرب اور عزت و منزلت پا لوگے۔“
اسے امام بیہقی نے شعب الایمان میں روایت کیا ہے، تاہم اس کی سند میں میسرہ بن عبد ربہ کذاب اور وضاع (حدیث گھڑنے والا) راوی ہے، جس کی وجہ سے یہ روایت سخت ضعیف و منکر ہے۔