❮
❯
حدیث نمبر: 2790
حَدَّثَنَا دَاوُدُ ، ثَنَا حَسَنٌ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا قَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ ، أَرَأَيْتَ الرَّجُلَ يَقُومُ اللَّيْلَ ، وَيَصُومُ النَّهَارَ ، وَيَحُجُّ ، وَيَعْتَمِرُ ، وَيَغْزُو فِي سَبِيلِ اللهِ تَعَالَى ، وَيَعُودُ الْمَرِيضَ ، وَيَصِلُ الرَّحِمَ ، وَيُشَيِّعُ الْجَنَائِزَ وَيَقْرِي الضَّيْفَ حَتَّى عَدَّ هَذِهِ الْعَشْرَ خِصَالٍ فَمَا مَنْزِلَتُهُ عِنْدَ اللهِ تَعَالَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ثَوَابُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فِي كُلِّ مَا كَانَ مِنْهُ فِي ذَلِكَ عَلَى قَدْرِ عَقْلِهِ .
ترجمہ

سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے عرض کی: ”اے اللہ کے رسول! آپ اس شخص کے بارے میں کیا فرماتے ہیں جو رات کو (عبادت کے لیے) قیام کرتا ہے، دن کو روزہ رکھتا ہے، حج اور عمرہ کی سعادت حاصل کرتا ہے، اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرتا ہے، بیمار کی تیمارداری کرتا ہے، صلہ رحمی (رشتہ داروں سے حسن سلوک) کرتا ہے، جنازوں کے ساتھ جاتا ہے اور مہمان کی ضیافت کرتا ہے؟“ یہاں تک کہ اس سائل نے ان دس خصلتوں کو شمار کیا اور دریافت کیا: ”تو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کا کیا مقام و مرتبہ ہوگا؟“ تو نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”قیامت کے دن ان تمام اعمال کا ثواب جو اس نے انجام دیے ہوں گے، اس کی عقل و فہم کی مقدار کے مطابق دیا جائے گا۔“
یہ روایت اس امر کی وضاحت کرتی ہے کہ بارگاہِ الٰہی میں اعمال کا اجر و ثواب بندے کی فہم، معرفت اور شعوری کیفیت کے بقدر عطا کیا جاتا ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الأدب / حدیث: 2790
درجۂ حدیث محدثین: إسناده موضوع
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :حديث موضوع. »
«انفرد به المصنف من هذا الطريق»