المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأدب— آدابِ معاشرت اور حسنِ اخلاق کا بیان۔
بَابُ العقل وَفَضْلِهِ باب: عقل اور اس کی فضیلت و منقبت کا بیان۔
حَدَّثَنَا دَاوُدُ ، ثَنَا مَيْسَرَةُ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللهِ ; إِلَى مَا يَنْتَهِي النَّاسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، قَالَ : إِلَى أَعْمَالِهِمْ مَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ ، وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ قَالَ : فَقُلْتُ : أَيُّهُمْ أَفْضَلُ أَعْمَالًا ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَحْسَنُهُمْ عَقْلًا ، قُلْتُ : هَذَا فِي الدُّنْيَا ، فَأَيُّهُمْ أَفْضَلُ فِي الْآخِرَةِ ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَحْسَنُهُمْ عَقْلًا ، إِنَّ الْعَقْلَ سَيِّدُ الْأَعْمَالِ فِي الدَّارَيْنِ جَمِيعًا .سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! قیامت کے دن لوگوں کے معاملات کا انجام اور انتہا کیا ہوگی؟“ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”وہ اپنے اعمال تک پہنچیں گے (یعنی ان کا انجام ان کے افعال کے مطابق ہوگا)؛ ﴿فَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ﴾ [سورة الزلزلة: 7-8] یعنی جس نے ذرہ برابر نیکی کی ہوگی وہ اسے دیکھ لے گا اور جس نے ذرہ برابر بدی کی ہوگی وہ اسے دیکھ لے گا۔“ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے دریافت کیا: ”اعمال کے لحاظ سے ان میں کون سب سے زیادہ فضیلت والا ہے؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ شخص جس کی عقل سب سے بہتر اور پختہ ہے۔“ میں نے عرض کیا: ”یہ برتری تو دنیا میں (اعمال کی قبولیت کی بنیاد) ہوئی، تو پھر آخرت میں کون سب سے افضل ہوگا؟“ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جس کی عقل سب سے بہتر ہے؛ بلاشبہ عقل ہی دنیا و آخرت دونوں جہانوں میں تمام اعمال کی سردار اور حقیقی رہنما ہے۔“
یہ روایت سخت ضعیف بلکہ من گھڑت (موضوع) ہے، اس کی سند میں میسرہ بن عبد ربہ نامی راوی ہے جو کذاب اور حدیثیں گھڑنے میں مشہور ہے، امام نسائی اور دیگر ائمہ جرح و تعدیل نے اسے متروک قرار دیا ہے۔