المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الصلاة— نماز کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ تَأْخِيرِ الْعَصْرِ وَتَعْجِيلِهَا باب: نمازِ عصر میں تاخیر کرنے اور اسے جلدی ادا کرنے کا بیان۔
قَالَ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عَاصِمٍ ، قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، قَالَ : ثُمَّ أَتَتْهُ الْجَارِيَةُ فَقَالَتِ : الصَّلَاةَ أَصْلَحَكَ اللهُ ! قَالَ : " أَيُّ الصَّلَاةِ ؟ " قَالَتْ : صَلَاةُ الْعَصْرِ ، قَالَ : " أَوَقَدْ صَلَّيْتِهَا ؟ " قَالَتْ : قَدْ صَلَّيْتُهَا قَبْلَ أَنْ أَدْخُلَ إِلَيْكَ ، قَالَ : " اسْتَأْخِرِي عَنِّي ، لَمْ يَأْتِ الْعَصْرُ بَعْدُ " ثُمَّ رَاجَعَتْهُ ، فَقَالَ لَهَا مِثْلَ قَوْلِهِ الْأَوَّلِ ، ثُمَّ رَاجَعَتْهُ فَقَالَتْ لَهُ ، فَقَالَ : " قَدْ سَمِعْتُ مَا قُلْتِ ، نَاوِلِينِي وَضُوءًا ، فَإِنَّ النَّاسَ يُصَلُّونَ هَذِهِ الصَّلَاةَ قَبْلَ وَقْتِهَا " ، ثُمَّ صَلَّى .عمارہ بن عاصم بیان کرتے ہیں کہ میں سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا، (پھر راوی نے مکمل واقعہ ذکر کیا جس میں ہے کہ) پھر ان کے پاس ایک خادمہ آئی اور کہنے لگی: ”نماز کا وقت ہو گیا ہے، «أَصْلَحَكَ اللهُ» ”اللہ تعالیٰ آپ کے حال کی اصلاح فرمائے“!“ آپ نے دریافت فرمایا: ”کون سی نماز؟“ اس نے عرض کی: ”عصر کی نماز۔“ آپ نے پوچھا: ”کیا تم نے وہ نماز پڑھ لی ہے؟“ اس نے جواب دیا: ”میں آپ کے پاس حاضر ہونے سے پہلے ہی اسے ادا کر چکی ہوں۔“ آپ نے فرمایا: ”مجھ سے پرے ہٹ جاؤ، ابھی عصر کا وقت نہیں آیا۔“ پھر اس نے دوبارہ رجوع کیا تو آپ نے اسے وہی پہلے جیسی بات کہی، پھر جب اس نے دوبارہ اصرار کیا تو آپ نے فرمایا: ”جو تم نے کہا میں نے سن لیا ہے، اب مجھے وضو کا پانی دو، کیونکہ لوگ یہ نماز اس کے (افضل) وقت سے پہلے ہی پڑھ لیتے ہیں۔“ پھر آپ نے نماز ادا کی۔
[تخريج: مصنف ابن أبي شيبة: 3345، وإسناده حسن]۔