المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأدب— آدابِ معاشرت اور حسنِ اخلاق کا بیان۔
بَابُ العقل وَفَضْلِهِ باب: عقل اور اس کی فضیلت و منقبت کا بیان۔
حَدَّثَنَا دَاوُدُ ، ثَنَا سَلَّامٌ أَبُو الْمُنْذِرِ ، عَنْ مُوسَى بْنِ جَابَانَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : أَثْنَى قَوْمٌ عَلَى رَجُلٍ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى بَلَغُوا فِي الثَّنَاءِ فِي خِلَالِ الْخَيْرِ ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : كَيْفَ عَقْلُ الرَّجُلِ ؟ ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللهِ ، نُخْبِرُكَ عَنِ اجْتِهَادِهِ فِي الْعِبَادَةِ ، وَأَصْنَافِ الْخَيْرِ ، وَتَسْأَلُنَا عَنْ عَقْلِهِ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ الْأَحْمَقَ يُصِيبُ بِحُمْقِهِ أَعْظَمَ مِنْ فُجُورِ الْفَاجِرِ ، وَإِنَّمَا يُرْفَعُ الْعِبَادُ غَدًا فِي الدَّرَجَاتِ ، وَيَنَالُونَ الزُّلْفَى مِنْ رَبِّهِمْ عَلَى قَدْرِ عُقُولِهِمْ .سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ کچھ لوگوں نے رسول اللہ ﷺ کی بارگاہ میں ایک شخص کی اس قدر ستائش کی کہ اس کی تمام تر خوبیوں کو بیان کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی، تب رسول اللہ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”اس شخص کی عقل کیسی ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! ہم آپ کو اس کی عبادت میں کمالِ محنت اور گوناگوں نیکیوں کی خبر دے رہے ہیں اور آپ ہم سے اس کی عقل کے متعلق پوچھ رہے ہیں؟“ تو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”یقیناً ایک احمق انسان اپنی حماقت کے باعث (دین و دنیا میں) اس سے بھی کہیں بڑا نقصان کر بیٹھتا ہے جتنا ایک بدکار انسان اپنی بدکاری سے کرتا ہے، اور کل قیامت کے دن بندوں کے درجات ان کی عقل و فہم کے مطابق ہی بلند کیے جائیں گے اور وہ اپنے رب کے ہاں قرب و منزلت بھی اپنی عقلوں کی مقدار کے بقدر ہی پائیں گے۔“
اس روایت کی سند میں کلام کیا گیا ہے اور اسے ضعیف قرار دیا گیا ہے (تخریج: المعجم الاوسط: 4059، شعب الایمان للبیہقی: 4627، علامہ البانی نے السلسلہ الضعیفہ: 6116 میں اسے منکر قرار دیا ہے)۔