المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأدب— آدابِ معاشرت اور حسنِ اخلاق کا بیان۔
بَابُ العقل وَفَضْلِهِ باب: عقل اور اس کی فضیلت و منقبت کا بیان۔
حَدَّثَنَا دَاوُدُ ، ثَنَا عَبَّادٌ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : لَمَّا رَجَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ غَزْوَةِ أُحُدٍ ، سَمِعَ النَّاسَ يَقُولُونَ : كَانَ فُلَانٌ أَشْجَعَ مِنْ فُلَانٍ ، وَفُلَانٌ أَجْرَأَ مِنْ فُلَانٍ ، وَفُلَانٌ أَبْلَى مَا لَمْ يُبْلِ غَيْرُهُ ، وَنَحْوَ هَذَا ، يُطْرُونَهُمْ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَمَّا هَذَا ، فَلَا عِلْمَ لَكُمْ بِهِ ، قَالُوا : وَكَيْفَ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللهِ ، قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : كُلُّهُمْ قَاتَلَ عَلَى قَدْرِ مَا قَسَمَ اللهُ لَهُمْ مِنَ الْعَقْلِ ، وَكَانَ نَصْرُهُمْ وَنِيَّتُهُمْ عَلَى قَدْرِ عُقُولِهِمْ ، فَأُصِيبَ مِنْهُمْ مَنْ أُصِيبَ عَلَى مَنَازِلَ شَتَّى ، فَإِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ ، اقْتَسَمُوا مَنَازِلَهُمْ عَلَى قَدْرِ نِيَّاتِهِمْ وَعُقُولِهِمْ .سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ غزوہِ احد سے واپس تشریف لائے تو آپ ﷺ نے لوگوں کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ ”فلاں شخص فلاں سے زیادہ بہادر تھا، فلاں فلاں سے زیادہ جری و دلیر تھا اور فلاں نے وہ کارہائے نمایاں انجام دیے جو دوسرا کوئی نہ کر سکا“، غرض وہ ان کی خوب مبالغہ آمیز تحسین کر رہے تھے، تو نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اس معاملے کی حقیقت کے بارے میں تم علم نہیں رکھتے“۔ صحابہ کرام نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! وہ کیسے؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”ان سب نے اسی قدر قتال کیا جتنا اللہ تعالیٰ نے ان کے درمیان عقل و دانش کو تقسیم فرمایا تھا، اور ان کی مدد و نصرت اور ان کی نیتوں کا معیار بھی ان کی عقلوں کے مطابق تھا، چنانچہ ان میں سے جو بھی شہید یا زخمی ہوئے وہ اپنے اپنے الگ الگ درجات پر فائز ہوئے، اور جب قیامت کا دن ہوگا تو وہ اپنی نیتوں اور اپنی عقلوں کے بقدر ہی اپنے درجات و منازل حاصل کریں گے“۔
اس حدیث کی سند میں عباد بن کثیر البصری راوی ہے جو کہ محدثین کے نزدیک متروک اور نہایت ضعیف ہے، اس لیے یہ روایت سنداً ضعیف ہے۔