❮
❯
حدیث نمبر: 2787
وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ إِلَى أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : جَاءَ ابْنُ سَلَامٍ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ ، إِنِّي سَائِلُكَ عَنْ خِصَالٍ لَمْ يُطْلِعِ اللهُ عَلَيْهَا أَحَدًا غَيْرَ مُوسَى بْنِ عِمْرَانَ ، فَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُهَا ، فَهُوَ ذَاكَ ، وَإِلَّا فَهُوَ شَيْءٌ خَصَّ اللهُ بِهِ مُوسَى بْنَ عِمْرَانَ عَلَيْهِ السَّلَامُ ، فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا ابْنَ سَلَامٍ ، إِنْ شِئْتَ تَسْأَلُنِي وَإِنْ شِئْتَ أَخْبَرْتُكَ ، فَقَالَ : أَخْبِرْنِي ، فَقَالَ : إِنَّ الْمَلَائِكَةَ الْمُقَرَّبِينَ ، لَمْ يُحِيطُوا بِخَلْقِ الْعَرْشِ ، وَلَا عِلْمَ لَهُمْ بِهِ ، وَلَا حَمَلَتَهُ الَّذِينَ يَحْمِلُونَهُ ، وَإِنَّ اللهَ لَمَّا خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ ، قَالَتِ الْمَلَائِكَةُ : رَبَّنَا ، هَلْ خَلَقْتَ خَلْقًا أَعْظَمَ مِنَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ؟ قَالَ : نَعَمِ ، الْبِحَارَ قَالَ : فَقَالُوا : هَلْ خَلَقْتَ خَلْقًا أَعْظَمَ مِنَ الْبِحَارِ ؟ قَالَ : نَعَمِ ، الْعَرْشَ ، قَالَ : هَلْ خَلَقْتَ خَلْقًا هُوَ أَعْظَمُ مِنَ الْعَرْشِ ؟ قَالَ : نَعَمِ ، الْعَقْلَ ، قَالُوا : رَبَّنَا ، وَمَا بَلَغَ مِنْ قَدْرِ الْعَقْلِ وَخَلْقِهِ ؟ قَالَ : هَيْهَاتَ لَا يُحَاطُ بِعِلْمِهِ ، قَالَ : هَلْ لَكُمْ عِلْمٌ بِعَدَدِ الرَّمْلِ ؟ ، قَالُوا : لَا ، قَالَ : فَإِنِّي خَلَقْتُ الْعَقْلَ أَصْنَافًا شَتَّى كَعَدَدِ الرَّمْلِ ، فَمِنَ النَّاسِ مَنْ أُعْطِيَ مِنْ ذَلِكَ حَبَّةً وَاحِدَةً ، وَبَعْضُهُمُ الْحَبَّتَيْنِ ، وَالثَّلَاثَ ، وَالْأَرْبَعَ ، وَبَعْضُهُمْ مَنْ أُعْطِيَ فَرَقًا ، وَمِنْهُمْ مَنْ أُعْطِيَ وَسْقًا ، وَمِنْهُمْ مَنْ أُعْطِيَ وَسْقَيْنِ ، وَبَعْضُهُمْ أُعْطِيَ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ إِلَى مَا شَاءَ اللهُ مِنَ التَّضْعِيفِ فَقَالَ ابْنُ سَلَامٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : فَمَنْ أُولَئِكَ يَا رَسُولَ اللهِ ؟ قَالَ : الْعُمَّالُ بِطَاعَةِ اللهِ تَعَالَى عَلَى قَدْرِ أَعْمَالِهِمْ ، وَجِدِّهِمْ ، وَيَقِينِهِمْ ، فَالنُّورُ الَّذِي جَعَلَهُ اللهُ تَعَالَى فِي قُلُوبِهِمْ وَفَهْمِهِمْ فِي ذَلِكَ ، كُلُّهُ عَلَى قَدْرِ الَّذِي آتَاهُمْ ، فَبِقَدْرِ ذَلِكَ يَعْمَلُ الْعَامِلُ مِنْهُمْ ، وَيَرْتَفِعُ فِي الدَّرَجَاتِ ، قَالَ ابْنُ سَلَامٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْهُدَى ، وَدِينِ الْحَقِّ ، مَا أُخْرِمُ حَرْفًا وَاحِدًا مِمَّا وَجَدْتُ فِي التَّوْرَاةِ وَإِنَّ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ أَوَّلُ مَنْ وَصَفَ هَذِهِ الصِّفَةَ ، وَأَنْتَ الثَّانِي ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : صَدَقْتَ يَا ابْنَ سَلَامٍ .
ترجمہ

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی: ”اے اللہ کے رسول! میں آپ سے ایسی خصلتوں کے بارے میں سوال کرنے والا ہوں جن پر اللہ تعالیٰ نے موسیٰ بن عمران علیہ السلام کے علاوہ کسی کو مطلع نہیں فرمایا، پس اگر آپ انہیں جانتے ہیں تو مقصود حاصل ہو جائے گا، ورنہ یہ وہ شے ہے جسے اللہ نے موسیٰ بن عمران علیہ السلام کے ساتھ ہی خاص فرمایا ہے“۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے ابن سلام! اگر تم چاہو تو مجھ سے سوال کرو اور اگر چاہو تو میں خود تمہیں خبر دے دوں“۔ انہوں نے عرض کی: ”آپ ہی مجھے خبر دیجیے“۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بے شک مقرب فرشتے بھی عرش کی تخلیق کی وسعت کا احاطہ نہیں کر سکے اور نہ ہی انہیں اس کا کامل علم ہے، یہاں تک کہ اس کے اٹھانے والے فرشتوں کو بھی اس کی حقیقت کا پورا علم نہیں۔ جب اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا تو فرشتوں نے عرض کی: اے ہمارے رب! کیا تو نے اپنی مخلوق میں آسمانوں اور زمین سے بھی عظیم تر کوئی چیز پیدا فرمائی ہے؟ اللہ نے فرمایا: ہاں، سمندروں کو۔ انہوں نے عرض کی: کیا تو نے سمندروں سے بھی زیادہ عظیم کوئی چیز پیدا کی ہے؟ اللہ نے فرمایا: ہاں، عرش کو۔ انہوں نے عرض کی: کیا تو نے کوئی ایسی مخلوق پیدا کی ہے جو عرش سے بھی زیادہ عظیم ہو؟ اللہ نے فرمایا: ہاں، عقل کو۔ انہوں نے عرض کی: اے ہمارے رب! عقل کی قدر و منزلت اور اس کی تخلیق کی انتہا کیا ہے؟ اللہ نے فرمایا: «هَيْهَاتَ لَا يُحَاطُ بِعِلْمِهِ» ”بہت بعید ہے، اس کے علم کا احاطہ نہیں کیا جا سکتا“۔ اللہ نے مزید پوچھا: کیا تمہیں ریت کے ذرات کی گنتی معلوم ہے؟ انہوں نے عرض کی: نہیں۔ اللہ نے فرمایا: میں نے عقل کو ریت کے ذرات کی تعداد کی مانند مختلف اقسام میں پیدا کیا ہے۔ پس لوگوں میں سے کسی کو اس عقل کا محض ایک دانہ عطا کیا گیا، کسی کو دو، تین یا چار، بعض کو ایک پیمانہ (فرق) کے برابر، کسی کو ایک وسق اور کسی کو دو وسق، بلکہ بعض کو اللہ کی مشیت کے مطابق اس سے بھی کئی گنا زیادہ عقل عطا کی گئی“۔ ابن سلام رضی اللہ عنہ نے عرض کی: ”اے اللہ کے رسول! وہ زیادہ عقل والے کون لوگ ہیں؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت و فرمانبرداری میں عمل کرنے والے لوگ ہیں، جو اپنے اعمال، اپنی جدوجہد اور اپنے یقین کی مقدار کے مطابق مرتبہ پاتے ہیں، پس وہ نور جو اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں رکھا اور ان کی سمجھ بوجھ اسی مقدار کے مطابق ہے جو اللہ نے انہیں عطا فرمائی ہے، پس ہر عمل کرنے والا اسی عقل کی مقدار کے مطابق عمل کرتا ہے اور درجات میں بلندی پاتا ہے“۔ ابن سلام رضی اللہ عنہ نے عرض کی: ”اس ذات کی قسم جس نے آپ کو ہدایت اور دینِ حق دے کر مبعوث فرمایا! آپ نے تورات میں موجود حقیقت سے ایک حرف کی بھی کمی نہیں کی، اور بے شک موسیٰ علیہ السلام پہلے شخص تھے جنہوں نے یہ صفت بیان کی اور آپ دوسرے ہیں“۔ پس رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے ابن سلام! تم نے سچ کہا“۔
یہ روایت عقل کی فضیلت کے باب میں حاکم ترمذی وغیرہ نے نقل کی ہے، تاہم محدثین کے نزدیک اس کی سند انتہائی ضعیف اور اس کا متن منکر ہے کیونکہ عقل کی تخلیق کے متعلق ایسی تفصیلات صحیح احادیث سے ثابت نہیں ہیں۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الأدب / حدیث: 2787
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف جدًا
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف جدًا، ومتنه منكر. »
«أخرجه الأحاديث المختارة للضياء برقم: 2148، وأخرجه جامع الترمذي برقم: 3369، وأخرجه مسند أحمد برقم: 12437، وأخرجه مسند أبي يعلى برقم: 4310، وأخرجه المنتخب من مسند عبد بن حميد برقم: 1215»