المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأدب— آدابِ معاشرت اور حسنِ اخلاق کا بیان۔
بَابُ العقل وَفَضْلِهِ باب: عقل اور اس کی فضیلت و منقبت کا بیان۔
حَدَّثَنَا دَاوُدُ ، ثَنَا عَبَّادٌ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : قَسَّمَ اللهُ تَعَالَى الْعَقْلَ ثَلَاثَةَ أَجْزَاءٍ ، فَمَنْ يَكُنَّ فِيهِ كَمُلَ عَقْلُهُ ، وَمَنْ لَمْ يَكُنَّ فِيهِ فَلَا عَقْلَ لَهُ : حُسْنُ الْمَعْرِفَةِ بِاللهِ تَعَالَى ، وَحُسْنُ الطَّاعَةِ لَهُ ، وَحُسْنُ الصَّبْرِ عَلَى أَمْرِهِ .سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”اللہ تعالیٰ نے عقل کو تین حصوں میں تقسیم فرمایا ہے، چنانچہ جس شخص میں یہ تینوں اوصاف موجود ہوں گے اس کی عقل کامل ہو جائے گی، اور جس میں یہ اوصاف موجود نہ ہوں اس کی کوئی عقل (معتبر) نہیں ہے: اللہ تعالیٰ کی بہترین معرفت و پہچان حاصل کرنا، اس کی بہترین اطاعت و فرمانبرداری بجا لانا، اور اس کے حکم و فیصلے پر بہترین انداز میں صبر کرنا۔“
اس حدیث کی سند میں عباد بن کثیر بصری ہے جو کہ متروک الحدیث ہے، امام ابن ابی الدنیا نے اسے اپنی کتاب 'العقل وفضله' میں روایت کیا ہے اور یہ روایت سنداً سخت ضعیف ہے۔