❮
❯
حدیث نمبر: 2782
حَدَّثَنَا دَاوُدُ ، ثَنَا عَبَّادٌ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : كَمْ مِنْ عَاقِلٍ عَنِ اللهِ أَمْرَهُ وَهُوَ حَقِيرٌ عِنْدَ النَّاسِ ، ذَمِيمُ الْمَنْظَرِ ، يَنْجُو غَدًا ، وَكَمْ مِنْ ظَرِيفِ اللِّسَانِ ، جَمِيلِ الْمَنْظَرِ حَمِيدِ اللِّبَاسِ ، يَهْلِكُ غَدًا فِي الْقِيَامَةِ .
ترجمہ

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”کتنے ہی ایسے لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کے احکامات کی گہری سمجھ بوجھ رکھنے والے ہیں حالانکہ وہ عام لوگوں کی نگاہوں میں نہایت معمولی اور ظاہری وضع قطع کے اعتبار سے ناپسندیدہ ہوتے ہیں، لیکن وہ کل (بروزِ قیامت) نجات پا جائیں گے، اور کتنے ہی ایسے لوگ ہیں جو زبان کے بہت چرب بیاں، دیکھنے میں حسین و جمیل اور دیدہ زیب لباس پہننے والے ہوتے ہیں، مگر وہ کل قیامت کے دن ہلاکت و بربادی سے دوچار ہوں گے۔“
اس حدیث کو امام بیہقی نے شعب الایمان میں روایت کیا ہے، اگرچہ اس کی سند پر علمی کلام موجود ہے لیکن اس کا مفہوم دیگر صحیح احادیث سے ثابت ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الأدب / حدیث: 2782
درجۂ حدیث محدثین: إسناده موضوع
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :حديث موضوع. »
«انفرد به المصنف من هذا الطريق»