المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأدب— آدابِ معاشرت اور حسنِ اخلاق کا بیان۔
بَابُ العقل وَفَضْلِهِ باب: عقل اور اس کی فضیلت و منقبت کا بیان۔
حَدَّثَنَا دَاوُدُ ، ثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، عَنْ كُلَيْبِ بْنِ وَائِلٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَنَّهُ تَلَا : تَبَارَكَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْكُ إِلَى قَوْلِهِ : لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ أَحْسَنُ عَمَلا قَالَ : أَيُّكُمْ أَحْسَنُ عَقْلًا ، وَأَوْرَعُ عَنْ مَحَارِمِ اللهِ ، وَأَسْرَعُهُمْ فِي طَاعَةِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ .سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے سورۃ الملک کی ابتدائی آیات ﴿تَبَارَكَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْكُ﴾ [سورة الملك: 1] سے لے کر اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد ﴿لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا﴾ [سورة الملك: 2] تک تلاوت فرمائی اور (لفظ احسن عملا کی تشریح میں) ارشاد فرمایا: ”تم میں عمل کے اعتبار سے بہترین وہ ہے جو عقل و فہم میں سب سے برتر ہو، اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ چیزوں سے سب سے زیادہ بچنے والا (پرہیزگار) ہو اور اللہ عزوجل کی اطاعت و فرمانبرداری کے کاموں میں سب سے زیادہ جلدی کرنے والا ہو۔“
اس حدیث کو امام بیہقی نے "شعب الایمان" (حدیث: 2790) میں روایت کیا ہے، اس کی سند میں راوی عبد الواحد بن زیاد بصری ثقہ ہیں، تاہم بعض ائمہِ جرح و تعدیل نے اس روایت کے مرفوع ہونے پر کلام کیا ہے اور اسے حسن درجہ کی روایت تسلیم کیا گیا ہے۔