المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأدب— آدابِ معاشرت اور حسنِ اخلاق کا بیان۔
بَابُ العقل وَفَضْلِهِ باب: عقل اور اس کی فضیلت و منقبت کا بیان۔
حَدَّثَنَا دَاوُدُ ، ثَنَا مَيْسَرَةُ ، عَنْ مُوسَى بْنِ جَابَانَ ، عَنْ لُقْمَانَ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ : قَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : إِنَّ الْجَاهِلَ لَا يَكْشِفُ إِلَّا عَنْ سَوْأَةٍ ، وَإِنْ كَانَ حَصِيفًا ظَرِيفًا عِنْدَ النَّاسِ ، وَإِنَّ الْعَاقِلَ لَا يَكْشِفُ إِلَّا عَنْ فَضْلٍ ، وَإِنْ كَانَ عَيِّبًا مَهِينًا عِنْدَ النَّاسِ .سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بے شک جاہل اور نادان انسان (اپنے قول و فعل سے) ہمیشہ اپنی برائی اور عیب ہی ظاہر کرتا ہے، اگرچہ وہ لوگوں کی نظر میں کتنا ہی عقل مند اور خوش گفتار کیوں نہ ہو، اور یقیناً صاحبِ عقل و بصیرت انسان صرف اپنی خوبی اور فضیلت کو ہی نمایاں کرتا ہے، خواہ وہ لوگوں کے نزدیک کتنا ہی عیب دار اور حقیر ہی کیوں نہ سمجھا جاتا ہو۔“
اس حدیث کو امام بیہقی نے شعب الایمان میں روایت کیا ہے، اس کی سند میں موسیٰ بن جابان ہیں جن کے حفظ پر کلام کیا گیا ہے، تاہم یہ کلام انسانی دانش اور جہالت کے ثمرات کے فرق کو واضح کرتا ہے۔