المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأدب— آدابِ معاشرت اور حسنِ اخلاق کا بیان۔
بَابُ العقل وَفَضْلِهِ باب: عقل اور اس کی فضیلت و منقبت کا بیان۔
حَدَّثَنَا دَاوُدُ ، ثَنَا مَيْسَرَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، أَنَّ مُعَاوِيَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، خَطَبَهُمْ فَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : أَفْضَلُ أَصْحَابِي وَخَيْرُهُمْ أَتْقَاهُمْ فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ : أَتْقَاهُمْ أَعْقَلُهُمْ ، كَذَلِكَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”میرے صحابہ میں سب سے زیادہ فضیلت والے اور ان میں سب سے بہتر وہ ہیں جو سب سے زیادہ تقویٰ اختیار کرنے والے اور پرہیزگار ہیں“، اس پر سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ نے (توضیحاً) فرمایا: ”ان میں سے جو سب سے زیادہ متقی ہے وہی سب سے زیادہ عقل مند ہے، اور رسول اللہ ﷺ نے اسی طرح ارشاد فرمایا ہے“۔
تخریج و تحکیم: اس روایت کی سند میں بعض راویوں پر کلام کیا گیا ہے، تاہم اس کا متن صحابہ کرام کی فضیلت کے معیار کے طور پر تقویٰ اور عقل کے باہمی تعلق کو بیان کرتا ہے۔