المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأدب— آدابِ معاشرت اور حسنِ اخلاق کا بیان۔
بَابُ العقل وَفَضْلِهِ باب: عقل اور اس کی فضیلت و منقبت کا بیان۔
حدیث نمبر: 2778
حَدَّثَنَا دَاوُدُ ، ثَنَا عَبَّادٌ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ ، صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : اسْتَشِيرُوا الْعَاقِلَ تَرْشُدُوا ، وَلَا تَعْصُوهُ فَتَنْدَمُوا .ترجمہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے ابوالقاسم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا: ”تم عقل مند اور صاحبِ بصیرت شخص سے مشورہ لیا کرو، تم ہدایت اور صحیح راہ پا جاؤ گے، اور اس (کی رائے) کی ہرگز مخالفت نہ کرنا ورنہ تمہیں ندامت اور پشیمانی اٹھانی پڑے گی۔“
اس حدیث کو امام ابن عدی نے الکامل میں اور امام قضاعی نے مسند الشہاب میں روایت کیا ہے، یہ روایت فہم و فراست کے حامل لوگوں سے رجوع کرنے اور ان کے مشوروں کی اہمیت پر روشنی ڈالتی ہے۔