المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأدب— آدابِ معاشرت اور حسنِ اخلاق کا بیان۔
بَابُ العقل وَفَضْلِهِ باب: عقل اور اس کی فضیلت و منقبت کا بیان۔
ثَنَا دَاوُدُ ، ثَنَا عَبَّادٌ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لِكُلِّ شَيْءٍ دِعَامَةٌ ، وَدِعَامَةُ الْمُؤْمِنِ عَقْلُهُ ، فَبِقَدْرِ عَقْلِهِ تَكُونُ عِبَادَةُ رَبِّهِ ، أَمَا سَمِعْتُمْ قَوْلَ الْفَاجِرِ عِنْدَ نَدَامَتِهِ : لَوْ كُنَّا نَسْمَعُ أَوْ نَعْقِلُ مَا كُنَّا فِي أَصْحَابِ السَّعِيرِ .سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”ہر چیز کا کوئی نہ کوئی ستون اور بنیاد ہوتی ہے، اور مومن کی بنیاد اور اس کا اصل سہارا اس کی عقل و دانش ہے، چنانچہ اس کے رب کی عبادت (کے درجات و کمال) کا دارومدار بھی اس کی عقل و فہم کی مقدار پر ہوتا ہے۔ کیا تم نے گناہ گار کا اپنی ندامت و شرمندگی کے وقت یہ قول نہیں سنا: ﴿لَوْ كُنَّا نَسْمَعُ أَوْ نَعْقِلُ مَا كُنَّا فِي أَصْحَابِ السَّعِيرِ﴾ [سورة الملك: 10] ”کاش ہم (حق بات) سنتے یا عقل و سمجھ سے کام لیتے تو آج ہم دوزخیوں میں شامل نہ ہوتے۔““
تخریج و تحکیم: اس حدیث کو امام حارث بن ابی اسامہ نے اپنی مسند (بغية الباحث: 792) میں روایت کیا ہے، اس کی سند میں سہیل بن ابی صالح کے تفرد اور دیگر راویوں کی وجہ سے محدثین نے کلام کیا ہے، اور علامہ البانی نے اسے ضعیف قرار دیا ہے۔