المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأدب— آدابِ معاشرت اور حسنِ اخلاق کا بیان۔
بَابُ العقل وَفَضْلِهِ باب: عقل اور اس کی فضیلت و منقبت کا بیان۔
حَدَّثَنَا دَاوُدُ ، ثَنَا عَبَّادٌ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ أَبِيهِ : أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ لِتَمِيمٍ الدَّارِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : مَا السُّؤْدُدُ فِيكُمْ ؟ قَالَ : الْعَقْلُ ، قَالَ : صَدَقْتَ ، سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا سَأَلْتُكَ ، فَقَالَ كَمَا قُلْتَ ، ثُمَّ قَالَ : سَأَلْتُ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ : مَا السُّؤْدُدُ فِي النَّاسِ ؟ فَقَالَ : الْعَقْلُ .اسلم سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ سے دریافت فرمایا: ”تمہارے نزدیک سیادت، سرداری اور عظمت و شرافت کا معیار کیا ہے؟“ انہوں نے جواب دیا: ”عقل و دانائی“، اس پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تم نے سچ کہا، میں نے رسول اللہ ﷺ سے اسی طرح سوال کیا تھا جیسے تم سے پوچھا، تو آپ ﷺ نے بھی وہی جواب دیا جو تم نے دیا ہے، پھر آپ ﷺ نے مزید فرمایا: ”میں نے جبرائیل علیہ السلام سے پوچھا تھا کہ لوگوں میں سیادت و بزرگی کا اصل معیار کیا ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا: عقل۔““
اس حدیث کی سند میں عباد بن کثیر بصری نامی راوی متروک اور ضعیف ہے، جس کی وجہ سے یہ روایت سنداً انتہائی کمزور ہے۔