❮
❯
حدیث نمبر: 2776
حَدَّثَنَا دَاوُدُ ، ثَنَا عَبَّادٌ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ أَبِيهِ : أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ لِتَمِيمٍ الدَّارِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : مَا السُّؤْدُدُ فِيكُمْ ؟ قَالَ : الْعَقْلُ ، قَالَ : صَدَقْتَ ، سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا سَأَلْتُكَ ، فَقَالَ كَمَا قُلْتَ ، ثُمَّ قَالَ : سَأَلْتُ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ : مَا السُّؤْدُدُ فِي النَّاسِ ؟ فَقَالَ : الْعَقْلُ .
ترجمہ

اسلم سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ سے دریافت فرمایا: ”تمہارے نزدیک سیادت، سرداری اور عظمت و شرافت کا معیار کیا ہے؟“ انہوں نے جواب دیا: ”عقل و دانائی“، اس پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تم نے سچ کہا، میں نے رسول اللہ ﷺ سے اسی طرح سوال کیا تھا جیسے تم سے پوچھا، تو آپ ﷺ نے بھی وہی جواب دیا جو تم نے دیا ہے، پھر آپ ﷺ نے مزید فرمایا: ”میں نے جبرائیل علیہ السلام سے پوچھا تھا کہ لوگوں میں سیادت و بزرگی کا اصل معیار کیا ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا: عقل۔““
اس حدیث کی سند میں عباد بن کثیر بصری نامی راوی متروک اور ضعیف ہے، جس کی وجہ سے یہ روایت سنداً انتہائی کمزور ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الأدب / حدیث: 2776
درجۂ حدیث محدثین: إسناده موضوع
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :حديث موضوع. »
«انفرد به المصنف من هذا الطريق»