المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأدب— آدابِ معاشرت اور حسنِ اخلاق کا بیان۔
بَابُ العقل وَفَضْلِهِ باب: عقل اور اس کی فضیلت و منقبت کا بیان۔
حَدَّثَنَا دَاوُدُ ، ثَنَا مَيْسَرَةُ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُبَيْدَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : إِنَّ الرَّجُلَيْنِ لَيَتَوَجَّهَانِ إِلَى الْمَسْجِدِ ، فَيُصَلِّيَانِ ، فَيَنْصَرِفُ أَحَدُهُمَا وَصَلَاتُهُ أَوْزَنُ مِنْ أُحُدٍ ، وَيَنْصَرِفُ الْآخَرُ وَمَا تَعْدِلُ صَلَاتُهُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ ، فَقَالَ أَبُو حُمَيْدٍ السَّاعِدِيُّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : وَكَيْفَ يَكُونُ ذَلِكَ ؟ قَالَ : إِذَا كَانَ أَحْسَنَهُمَا عَقْلًا ، قَالَ : فَكَيْفَ يَكُونُ ؟ قَالَ : إِذَا كَانَ أَوْرَعَهُمَا عَنْ مَحَارِمِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ وَأَحْرَصَهُمَا عَلَى الْمُسَارَعَةِ إِلَى الْخَيْرِ ، وَإِنْ كَانَ دُونَهُ فِي التَّطَوُّعِ .سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”بلا شبہ دو آدمی مسجد کا رخ کرتے ہیں اور وہاں (باجماعت) نماز ادا کرتے ہیں، پھر ان میں سے ایک اس حال میں واپس پلٹتا ہے کہ اس کی نماز (ثواب و قدر میں) احد پہاڑ سے بھی زیادہ وزنی ہوتی ہے، جبکہ دوسرا اس حال میں لوٹتا ہے کہ اس کی نماز ایک ذرے کے برابر بھی وقعت نہیں رکھتی۔“ اس پر سیدنا ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ نے عرض کی: (اے اللہ کے رسول!) یہ معاملہ کس طرح ہوتا ہے؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جب ان میں سے ایک عقل و فہم کے اعتبار سے دوسرے سے بہتر ہو۔“ انہوں نے پھر دریافت کیا کہ وہ (بہتر عقل والا) کس طرح ہوتا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب وہ اللہ عزوجل کی حرام کردہ چیزوں سے بچنے میں زیادہ پرہیزگار ہو اور نیکی کے کاموں کی طرف لپکنے کا زیادہ حریص ہو، اگرچہ وہ نفلی عبادات کی کثرت میں اس (دوسرے شخص) سے کم ہی کیوں نہ ہو۔“
اس روایت کی سند میں موسیٰ بن عبیدہ الربذی موجود ہیں جنہیں ائمہ جرح و تعدیل نے ضعیف قرار دیا ہے، نیز امام بیہقی نے اسے ’شعب الایمان‘ میں نقل کیا ہے۔