المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأدب— آدابِ معاشرت اور حسنِ اخلاق کا بیان۔
بَابُ العقل وَفَضْلِهِ باب: عقل اور اس کی فضیلت و منقبت کا بیان۔
حدیث نمبر: 2774
حَدَّثَنَا دَاوُدُ ، ثَنَا مَيْسَرَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللهِ ، أَرَأَيْتَ قَوْلَ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ : أَيُّكُمْ أَحْسَنُ عَمَلا مَا عَنَى بِهِ ؟
قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَيُّكُمْ أَحْسَنُ عَقْلًا ، ثُمَّ قَالَ : صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَمُّكُمْ عَقْلًا أَشَدُّكُمْ لِلهِ خَوْفًا ، وَأَحْسَنُكُمْ فِيمَا أُمِرَ بِهِ ، وَنُهِيَ عَنْهُ نَظَرًا ، وَإِنْ كَانَ أَقَلَّكُمْ تَطَوُّعًا .ترجمہ
سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! اللہ عزوجل کے اس ارشاد ﴿أَيُّكُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا﴾ [سورة الملك: 2] کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے کہ اس سے اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی کیا مراد ہے؟
آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تم میں سے عقل کے لحاظ سے سب سے بہتر کون ہے“، پھر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تم میں سے عقل کے اعتبار سے سب سے کامل وہ شخص ہے جو اللہ تعالیٰ سے سب سے زیادہ ڈرنے والا ہو، اور اللہ کے احکامات اور ممنوعات میں بصیرت و فہم کے لحاظ سے سب سے عمدہ ہو، اگرچہ وہ نفلی عبادات بجا لانے میں تم سب سے کم ہی کیوں نہ ہو۔“