❮
❯
حدیث نمبر: 2762
قَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ - هُوَ أَبُو يُوسُفَ ( الْقَاضِي ) - ، حَدَّثَنَا أَبُو حَنِيفَةَ ، عَنِ الْهَيْثَمِ - يَعْنِي ابْنَ حَبِيبٍ - قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : مَا كَذَبْتُ مُنْذُ أَسْلَمْتُ إِلَّا كَذْبَةً وَاحِدَةً ، كُنْتُ أُرَحِّلُ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَى رَحَّالٌ مِنَ الطَّائِفِ ، فَقَالَ : أَيُّ رَحَّالٍ أَعْجَبُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَقُلْتُ : الطَّائِفِيَّةُ الْمُنَكَّبَةُ ، قَالَ : وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَكْرَهُهَا ، قَالَ : فَلَمَّا رَحَلَهَا ، فَأُتِيَ بِهَا ، فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ رَحَلَ لَنَا هَذِهِ ؟ قُلْتُ : رَحَلَ لَكَ فُلَانٌ الَّذِي أَتَيْتَ بِهِ مِنَ الطَّائِفِ ، فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : رُدُّوا الرَّاحِلَةَ إِلَى ابْنِ مَسْعُودٍ .
ترجمہ

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”میں نے جب سے اسلام قبول کیا ہے تب سے کبھی کوئی جھوٹ نہیں بولا سوائے ایک مرتبہ کے؛ میں رسول اللہ ﷺ کی سواری پر کجاوہ کسا کرتا تھا کہ طائف سے ایک کجاوہ ساز کاریگر آیا اور اس نے دریافت کیا کہ اللہ کے رسول ﷺ کو کس قسم کا کجاوہ زیادہ پسند ہے؟ میں نے کہا: ”طائف کا بنا ہوا وہ کجاوہ جس کے پہلو ڈھلانی اور ابھرے ہوئے ہوں (المنکبہ)۔““ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ”حالانکہ رسول اللہ ﷺ اسے ناپسند فرماتے تھے، پھر جب اس کاریگر نے ویسا ہی کجاوہ کس دیا اور سواری آپ ﷺ کے پاس لائی گئی تو آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”ہمارے لیے یہ کجاوہ کس نے کسا ہے؟“ میں نے عرض کیا: ”آپ کے لیے اس فلاں شخص نے کسا ہے جسے آپ طائف سے لائے تھے۔“ تب رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا: ”یہ سواری واپس ابن مسعود کے پاس لے جاؤ (تاکہ وہ اسے خود درست کرے)۔““
مسند ابی یعلی: 2762، اس کی سند میں امام اعظم ابو حنیفہ اور ان کے شاگرد امام ابو یوسف القاضی موجود ہیں، یہ روایت سنداً جید ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الأدب / حدیث: 2762
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف. »
«أخرجه مسند أبي يعلى برقم: 5268، وأخرجه المعجم الكبير للطبراني برقم: 10366»