المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأدب— آدابِ معاشرت اور حسنِ اخلاق کا بیان۔
بَابُ استخدام الأحرار ولا يعد ذَلِكَ مِنْ الكبر باب: آزاد لوگوں سے خدمت لینے اور اسے تکبر نہ سمجھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2761
قَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ : حَدَّثَنَا الْمُقْرِئُ ، حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، قَالَ : كَانَ عَبْدُ اللهِ إِذَا جَلَسَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَزَعَ نَعْلَيْهِ مِنْ رِجْلَيْهِ ، وَيُدْخِلُهُمَا فِي ذِرَاعَيْهِ ، فَإِذَا قَامَ أَلْبَسَهُ إِيَّاهَا ، وَيَمْشِي بِالْعَصَا أَمَامَهُ ، حَتَّى يَدْخُلَ الْحُجْرَةَ .ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے متعلق مروی ہے کہ ”جب رسول اللہ ﷺ تشریف فرما ہوتے تو وہ آپ ﷺ کے پاؤں مبارک سے نعلین (جوتے) اتار لیتے اور انہیں اپنے بازوؤں میں دبا کر تھام لیتے، پھر جب آپ ﷺ کھڑے ہوتے تو وہ آپ ﷺ کو نعلین پہنا دیتے، اور آپ ﷺ کے آگے آگے عصا مبارک لے کر چلتے یہاں تک کہ آپ ﷺ اپنے حجرہ مبارک میں داخل ہو جاتے۔“
اس روایت کی سند حسن ہے اور یہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی بارگاہِ رسالت ﷺ میں مخصوص خدمت اور ان کے ”صاحبِ نعلین و عصا“ ہونے کی مستند دلیل ہے۔