المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأدب— آدابِ معاشرت اور حسنِ اخلاق کا بیان۔
بَابُ الحب والإخاء باب: محبت اور بھائی چارے کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَعْلَى ، عَنْ حُمَيْدٍ هُوَ الْأَعْرَجُ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : الْمُتَحَابُّونَ عَلَى عَمُودٍ مِنْ يَاقُوتَةٍ حَمْرَاءَ ، مُشْرِفِينَ عَلَى أَهْلِ الدُّنْيَا ، قَالَ : فَيَقُولُ أَهْلُ الْجَنَّةِ : اخْرُجُوا بِنَا نَنْظُرْ إِلَى الْمُتَحَابِّينَ فِي اللهِ ، عَزَّ وَجَلَّ قَالَ : فَيَخْرُجُونَ ، فَيَنْظُرُونَ إِلَيْهِمْ ، وُجُوهُهُمْ مِثْلُ لَيْلَةِ الْبَدْرِ ، مَكْتُوبٌ فِي جِبَاهِهِمْ ، هَؤُلَاءِ الْمُتَحَابُّونَ فِي اللهِ عَزَّ وَجَلَّ .
2758 \ 2 - وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَاتِمٍ ، ثَنَا خَلَفُ بْنُ خَلِيفَةَ ، عَنْ حُمَيْدٍ بِهِ ، وَزَادَ : عَلَى رَأْسِ الْعَمُودِ سَبْعُونَ أَلْفَ غُرْفَةٍ ، يُضِيءُ حُسْنُهُمْ عَلَى أَهْلِ الْجَنَّةِ ، كَمَا تُضِيءُ الشَّمْسُ عَلَى أَهْلِ الدُّنْيَا ، وَفِيهِ : عَلَيْهِمْ ثِيَابٌ خُضْرٌ مِنْ سُنْدُسٍ .سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اللہ کی رضا کی خاطر ایک دوسرے سے محبت کرنے والے (قیامت کے دن) سرخ یاقوت کے ایک ایسے بلند ستون پر جلوہ افروز ہوں گے جہاں سے وہ اہل دنیا پر نمایاں نظر آئیں گے۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس موقع پر اہل جنت (بڑے اشتیاق سے) کہیں گے: ہمارے ساتھ چلو تاکہ ہم ان لوگوں کا دیدار کریں جو اللہ عزوجل کی خاطر باہم محبت کیا کرتے تھے۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”چنانچہ وہ (ان کی زیارت کے لیے) نکلیں گے اور انہیں دیکھیں گے، ان کے چہرے چودھویں رات کے چاند کی طرح دمک رہے ہوں گے اور ان کی پیشانیوں پر یہ تحریر نقش ہوگی: یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ عزوجل کی خاطر ایک دوسرے سے محبت کرتے تھے۔“
امام ابویعلیٰ کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ: ”اس ستون کی چوٹی پر ستر ہزار بالا خانے ہوں گے، ان کا حسن و جمال اہل جنت پر اس طرح ضیا باری کرے گا جیسے سورج دنیا والوں پر روشنی بکھیرتا ہے، اور اس روایت میں یہ بھی مذکور ہے کہ ان پر باریک ریشم کے سبز لباس ہوں گے۔“