المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأدب— آدابِ معاشرت اور حسنِ اخلاق کا بیان۔
بَابُ الحب والإخاء باب: محبت اور بھائی چارے کا بیان۔
وَحَدَّثَنَا عَبْدُ الْغَفَّارِ بْنُ عَبْدِ اللهِ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ أَبِي إِسْمَاعِيلَ الْعَبْدِيِّ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ أَحْدَثَ أَخًا فِي الْإِسْلَامِ ، رَفَعَهُ اللهُ تَعَالَى بِهِ دَرَجَةً فِي الْجَنَّةِ ، وَمَا تَوَادَّ عَبْدَانِ فِي اللهِ تَعَالَى ، فَيُفَرِّقُ بَيْنَهُمَا إِلَّا مِنْ ذَنْبٍ يُحْدِثُهُ أَحَدُهُمَا ، وَمَا تَوَادَّ عَبْدَانِ فِي اللهِ تَعَالَى ، إِلَّا كَانَ أَفْضَلُهُمَا عِنْدَ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ أَشَدَّهُمَا حُبًّا لِصَاحِبِهِ .سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جس شخص نے اسلام کے ناطے کسی کو اپنا بھائی بنایا، اللہ تعالیٰ اس کی بدولت جنت میں اس کا ایک درجہ بلند فرما دیتا ہے، اور جب بھی دو بندے اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کی خاطر ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں اور پھر ان کے درمیان جدائی ہو جاتی ہے، تو وہ ان میں سے کسی ایک کے ہاتھوں سرزد ہونے والے گناہ ہی کی وجہ سے ہوتی ہے، اور جب بھی دو بندے محض اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے باہم الفت و محبت رکھتے ہیں تو اللہ عزوجل کے ہاں ان میں سے زیادہ فضیلت کا حامل وہ ہوتا ہے جو اپنے ساتھی کے ساتھ زیادہ شدید محبت رکھنے والا ہو۔“
اسے امام بیہقی نے اپنی کتاب ’شعب الایمان‘ میں روایت کیا ہے، اس کی سند میں موجود راوی ابو اسماعیل العبدی (بشر بن حذیفہ) کے متعلق ائمہ جرح و تعدیل نے کلام کیا ہے، تاہم محبت فی اللہ کے فضائل کے حوالے سے اس حدیث کے شواہد دیگر معتبر روایات میں موجود ہیں۔